سعودی عرب، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قوانین میں بڑی ترمیم، مسافروں کے لیے ڈیکلریشن کی حد 40 ہزار ریال مقرر

سعودی پبلک پراسیکیوشن نے اینٹی منی لانڈرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے ایگزیکٹو ریگولیشنز میں ایک اہم ترین ترمیم کرتے ہوئےمسافروں کے لیے نقدی اور قیمتی سامان ظاہر کرنے (ڈیکلریشن) کی حد کم کرکے 40ہزار ریال کردی ہے۔

مکہ مکرمہ۔27جون (اے پی پی):سعودی پبلک پراسیکیوشن نے اینٹی منی لانڈرنگ کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے ایگزیکٹو ریگولیشنز میں ایک اہم ترین ترمیم کرتے ہوئےمسافروں کے لیے نقدی اور قیمتی سامان ظاہر کرنے (ڈیکلریشن) کی حد کم کرکے 40ہزار ریال کردی ہے۔ امارت مکہ مکرمہ نے ایکس پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے کی گئی ترمیم کے حوالے سے بتایا کہ مملکت میں داخل ہونے یا یہاں سے باہر جانے والے مسافروں کے لیے نقدی اور قیمتی سامان ظاہر کرنے (ڈیکلریشن) کی قانونی حد کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔سابقہ قانون کے تحت سعودی عرب آنے یا یہاں سے جانے والے مسافروں کے لیے 60,000 سعودی ریال یا اس کے مساوی رقم و اشیاء پر ڈیکلریشن فارم بھرنا لازمی تھا۔اب نئی ترمیم کے بعد اس حد کو کم کر کے اب 40,000 سعودی ریال مقرر کر دیا گیا ہے۔

اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے ایگزیکٹو ریگولیشن کے آرٹیکل 23 کے پیراگراف (1) کے تحت کی جانے والی اس ترمیم کے مطابق، اب تمام ملکی، سمندری اور فضائی حدود پر مسافروں کے لیے اشیاء کی مالیت 40,000 سعودی ریال یا اس سے تجاوز کرنے پر پیشگی ڈیکلریشن دینا قانونی طور پر لازم ہوگا۔ ان اشیاء میں ہر قسم کی ملکی و غیر ملکی کرنسیاں، قابلِ تبادلہ مالیاتی دستاویزات جیسے بانڈز اور چیکس، سونے کے بسکٹ یا سونا، اور قیمتی دھاتوں سمیت ہیرے جواہرات یا ان سے بنے زیورات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکام کی جانب سے مسافروں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا ضبطگی کی کارروائی سے بچنے کے لیے سفر کے دوران اس نئے ضابطے کی مکمل پاسداری کریں۔