سعودی عرب کی ٹوورازم اتھارٹی کے وفد نے چین کا تین روزہ دورہ مکمل کرلیا جس میں زیادہ سے زیادہ چینی سیاحوں کو مملکت کی جانب راغب کرنے، دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت اور کاروباری شراکت داری کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق اتھارٹی کے سی ای او عقیل الشیبانی کی سربراہی میں وفد نے چین کی نمایاں ٹریول، ٹوورازم اور کاروباری کمپنیوں …
سعودی ٹوورازم اتھارٹی کا دورہ چین مکمل ، باہمی سیاحت و کاروباری شراکت داری مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی

مزید خبریں
ریاض۔27ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی ٹوورازم اتھارٹی کے وفد نے چین کا تین روزہ دورہ مکمل کرلیا جس میں زیادہ سے زیادہ چینی سیاحوں کو مملکت کی جانب راغب کرنے، دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت اور کاروباری شراکت داری کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق اتھارٹی کے سی ای او عقیل الشیبانی کی سربراہی میں وفد نے چین کی نمایاں ٹریول، ٹوورازم اور کاروباری کمپنیوں کے حکام اور نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جن میں باہمی تعاون، ڈسٹری بیوشن چینلز کو وسعت دینے اور چینی وزیٹرز کے لیے مصنوعات اور خدمات کی تیاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے مملکت کے کچھ مقبول ترین سیاحتی مقامات جن میں العلا، بحیرہ احمر کا ساحل، امالا، ریاض اور جدہ کے ساتھ انٹرنیشنل سپورٹس، ثقافتی اور تفریحی ایونٹس کے سال بھر کے کلینڈر کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔عقیل الشیبانی نے کہا کہ چین سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کے لیے ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ ہے، 2025 میں چینی سیاحوں کی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ہوا ۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی سعودی عرب کے سیاحتی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانے اور چینی سیاحوں کے لیے سفر کو آسان بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ چین نے باضابطہ طور پر سعودی عرب کواہم ترین سیاحتی منزل کا درجہ دیا ہے۔ دونوں ملکوں نے اس حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب کے مطابق یہ معاہدہ مملکت میں چینی سیاحوں کی دلچسپی بڑھائے گا، سالانہ 30 لاکھ تک چینی سیاح سعودی عرب آئیں گے۔ چین ان ملکوں میں شامل ہے جن کے شہری سعود ی ایئرپورٹ، بندرگاہ اور بری سرحدی چوکی پہنچنے پر سیاحتی ویزا حاصل کرسکتے ہیں۔








