سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 14 نئے پل تعمیر، 16 کی مرمت مکمل

سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 14 نئے پل تعمیر، 16 کی مرمت مکمل

اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):سندھ میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں 17 نئے پلوں میں سے 14 کی تعمیر جبکہ مرمت کے لیے مقرر 24 پلوں میں سے 16 کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ کام ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مالی معاونت سے جاری ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پراجیکٹ (ای ایف اے پی) کے سندھ حصے کے تحت کیا جا رہا ہے۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق نظرثانی شدہ دائرہ کار کے تحت بحال کی جانے والی 829 کلومیٹر سڑکوں میں سے 732 کلومیٹر پر اسفالٹ بچھانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ 829 کلومیٹر پر محیط 41 سڑکوں کو 17 پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے نو پیکیجز بڑی حد تک مکمل ہو چکے ہیں۔

کلورٹس پر بھی پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں 996 نئے کلورٹس میں سے 920 مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ مرمت کے لیے مقرر 505 کلورٹس میں سے 461 کی مرمت مکمل ہو چکی ہے۔منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والے 17 نئے پلوں میں سے 14 مکمل ہو چکے ہیں، جن میں ضلع کشمور کا تنگوانی پل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مرمت کے لیے مقرر 24 پلوں میں سے 16 کی مرمت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔منصوبے کی ابتدائی منظوری قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 6 دسمبر 2022 کو 48.4 ارب روپے (22 کروڑ ڈالر) کی مجموعی لاگت کے ساتھ دی تھی۔

فنانسنگ میں اے ڈی بی کا حصہ 43.974 ارب روپے (19 کروڑ 99 لاکھ ڈالر) جبکہ حکومت سندھ کا حصہ 4.425 ارب روپے (2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) تھا۔نظرثانی شدہ پی سی-I کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 6 فروری 2026 کو 60.053 ارب روپے (21 کروڑ 22 لاکھ ڈالر) کی مجموعی لاگت کے ساتھ منظوری کے لیے ایکنک کو سفارش کی۔

نظرثانی شدہ فنانسنگ میں اے ڈی بی کا حصہ 52.067 ارب روپے (18 کروڑ 39 لاکھ 80 ہزار ڈالر) جبکہ حکومت سندھ کا حصہ 7.986 ارب روپے (2 کروڑ 82 لاکھ 10 ہزار ڈالر) ہے۔منصوبے کے ابتدائی دائرہ کار کے تحت اے ڈی بی کے نومبر 2022 میں جاری کردہ پراجیکٹ ایڈمنسٹریشن مینوئل کے مطابق 400 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی کی جانی تھی۔

بعد ازاں اے ڈی بی کے فیلڈ مشن کے دوران 849 کلومیٹر سڑکوں کو بحالی کے لیے حتمی شکل دی گئی جبکہ نظرثانی شدہ پی سی-I کے تحت 829 کلومیٹر سڑکوں پر کام کیا جا رہا ہے۔