24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومعلاقائی خبریںسول ججز/علاقہ قاضیوں کے لیے میراث کے مقدمات کے تیز رفتار طریقہ...

سول ججز/علاقہ قاضیوں کے لیے میراث کے مقدمات کے تیز رفتار طریقہ کار سماعت پر تربیتی پروگرام

- Advertisement -

پشاور۔ 22 جنوری (اے پی پی):خیبرپختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں "میراث کے مقدمات کی تیز رفتار طریقہ کار سماعت” کے موضوع پر تین روزہ خصوصی تربیت کا آغاز ہو گیا ہے۔صوبہ کے مختلف اضلاع میں تعینات چوبیس سول ججز/علاقہ قاضی اس تربیتی پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ تربیت کا بنیادی مقصد سول ججز/علاقہ قاضیوں کو وراثت کے تنازعات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے ضروری مہارت، علم اور سمجھ سے آراستہ کرنا ہے۔ تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب میں عدالت عالیہ پشاور کے فاضل جج اور اکیڈمی کے ایڈوائزر جناب جسٹس سید ارشد علی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ رجسٹرار عدالت عالیہ پشاور بیرسٹراختیار خان، ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی جہانزیب شنواری، ڈین فیکلٹی ضیاء الرحمان، سینئر ڈائریکٹر شعبہ تحقیق و اشاعت ڈاکٹر قاضی عطاء اللہ اور اکیڈمی کے تمام ڈائریکٹرز اور افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

ڈی جی اکیڈمی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں خصوصی تربیتی پروگرام کے تصور، مقاصد اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں وراثت کا قانون انصاف اور مساوات کو یقینی بناتا ہے اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وراثت کے تنازعات کا بروقت اور موثر حل انصاف کو یقینی بنانے اور معاشرے میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈی جی اکیڈمی نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اکیڈمی نے اس جامع تربیتی پروگرام کو وراثت کے قوانین کے بارے میں شرکاء کی سمجھ کو بڑھانے، ان کی عدالتی صلاحیت کو بہتر بنانے اور تقویت دینے اور وراثت کے مقدمات کو بروقت اور منصفانہ طریقے سے نمٹانے میں کارکردگی کو بڑھانے کے لئے مرتب کیا گیاہے۔مہمان خصوصی جسٹس سید ارشد علی نے اپنے خطاب میں وراثت کے قوانین کے بارے میں بتایا کہ

- Advertisement -

وراثت کے تنازعات نمٹانے کی تیز رفتاری سے متعلق یہ خصوصی تربیت سول ججز/علاقہ قاضیوں کی پیشہ وارانہ استعداد کار کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اور ججز /قاضی وراثت کے معاملات کو موثر اور منصفانہ طریقے سے نمٹائیں گے ۔ انہوں نے ججز /قاضیوں کو ضروری مہارتوں اور علم سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک زیادہ موثر اور جوابدہ قانونی نظام کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے جو عوام کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکے۔ جسٹس سید ارشد علی نے اے ڈی آر کو وراثت کے تنازعات کے حل کےلئے ایک موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی آر کے ذریعے وراثت کے تنازعات کا فیصلہ کرتے ہوئے انصاف اور عدالتی عمل کے وقار کو مد نظر رکھا جائے۔ جسٹس سید ارشد علی نے اکیڈمی کے اس اہم موضوع پر تربیتی پروگرام کے انعقاد کو سراہتے ہوئے شرکائے تربیت کو ہدایت کی کہ وہ وراثت کے معاملات کے حوالہ سے ابھرتے ہوئے

چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے تربیت میں فعال طور پر حصہ لیں۔واضح رہے کہ وراثت یعنی میراث سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار طریقہ کار سماعت کے موضوع پر سہ روزہ تربیت 24 جنوری 2025 کو اختتام پذیر ہوگی۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں