اسلام آباد۔4اپریل (اے پی پی):پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے ملک کے پہلے انسانی خلائی مشن میں حصہ لینے کے لیے سائنس دانوں، محققین اور طلبہ سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ جمعہ کو یہاں سپارکو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کا پہلا خلاباز چینی خلائی سٹیشن (سی ایس ایس) تک تاریخی سفر کرنے جا رہا ہے جس کے موقع پر قومی خلائی ادارہ سی ایس ایس کے انتہائی درجہ حرارت، خلا کے ماحول اور مائیکروگریویٹی میں کیے جانے والے انوویٹو تجربات کے لیے تجاویز مانگ رہا ہے تاکہ اس مشن کے سائنسی اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔
چینی خلائی سٹیشن زمین کے گرد 41.5 ڈگری کے زاویے پر بیضوی مدار میں تقریباً 380 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کر رہا ہے، یہ زمین کے گرد ایک چکر 92 منٹ میں مکمل کرتا ہے اور اس کی مدار رفتار تقریباً 7.7 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ بیان کے مطابق یہ پاکستانی عوام کے لیے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کرنے کا ایک شاندار موقع ہے، منتخب کیے جانے والے تجربات سی ایس ایس کی جدید ترین تحقیقی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں گے، جن میں خلائی حیاتیات، بائیو ٹیکنالوجی، بنیادی طبیعیات، فلویڈ ڈائنامکس، مٹیریل سائنس اور فلکیاتی طبیعیات کے لیے مخصوص تجرباتی ریکس شامل ہیں۔ خاص طور پر زراعت اور طبّی علوم کے شعبوں میں تجاویز کو ترجیح دی جائے گی، جہاں خرد ثقل کے ماحول میں انقلابی دریافتیں ممکن ہیں۔
تجاویز نیا پن، کم خرچ، ہلکا وزن اور مائیکروگریویٹی کے ماحول میں ایک ہفتے کے اندر عملی طور پر قابل عمل ہونی چاہئیں۔ جمع کرائی گئی تجاویز سی ایس ایس کی تحقیقی ترجیحات اور پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق ہوں۔ پاکستان کا خلاباز 2026ء کے آخر تک یا سی ایس ایس کے آئندہ مشن شیڈول کے مطابق تربیت مکمل کرنے کے بعد خلائی سٹیشن کا مشن انجام دے گا۔
یہ اقدام سائنسی اور صنعتی برادری کے لیے ایک بڑا موقع ہے کیونکہ تجرباتی نتائج اعلیٰ معیار کی تحقیقی جرائد میں اشاعت، نئی دریافتوں کے پیٹنٹس اور خلائی ٹیکنالوجی کے تجارتی مصنوعات کی تیاری کا باعث بن سکتے ہیں، جو بالآخر معاشرتی و معاشی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ تجاویز جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2025 ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پاکستان کی سائنسی برادری اور ابھرتے ہوئے سائنس دانوں اور انجینئرز کے لیے ملک کے خلائی سفر میں حصہ ڈالنے اور خلائی تحقیق کے مستقبل پر دیرپا اثرات مرتب کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔