سپریم کورٹ میں 86 نکاتی اصلاحاتی منصوبے کے تحت 65 اقدامات مکمل ہونا انصاف کی فراہمی کے موثر نظام کی جانب اہم پیش رفت ہے، حافظ احسان احمد کھوکھر

سپریم کورٹ آف پاکستان کے معروف آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر اور ایڈووکیٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں سپریم کورٹ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات عدالتی نظام کو جدید، شفاف، موثر اور عوام دوست بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں

اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے معروف آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر اور ایڈووکیٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں سپریم کورٹ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات عدالتی نظام کو جدید، شفاف، موثر اور عوام دوست بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں، نومبر 2024 سے ستمبر 2026 تک مرتب کیے گئے 86 نکاتی اصلاحاتی ایکشن پلان میں سے 65 اقدامات مکمل، 8 پر عمل درآمد جاری جبکہ 13 اقدامات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد، شفاف اور موثر عدلیہ کسی بھی جمہوری معاشرے اور آئینی نظام کی بنیاد ہوتی ہے، انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے نہ صرف سائلین کا اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کی ساکھ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اصلاحاتی منصوبے کا بنیادی مقصد عدالتی کارروائی کو منظم، شفاف اور تیز رفتار بنانے کے ساتھ عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان بنانا ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ مقدمات کی سماعت اور فکسنگ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے مقدمات کی نوعیت، ترجیح، عمر اور قانونی اہمیت کے مطابق طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ پرانے مقدمات کو ترجیح دیتے ہوئے تقریباً 40 فیصد پرانے کیسز سماعت کے لیے مقرر کیے گئے، جبکہ ایک ہی دن میں 202 مقدمات نمٹانے کی پیش رفت بھی عدالتی انتظام میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ فوری نوعیت کے مقدمات، ٹیکس، مالیاتی، تجارتی، سول، سروس اور لیبر تنازعات کے لیے خصوصی بینچوں اور سہ پہر کی عدالتوں کا انعقاد بھی قابلِ ذکر اقدامات ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ مرحلے میں ہر مقدمے کی پہلی سماعت درخواست دائر ہونے کے 15 دن کے اندر مقرر کرنے کی پالیسی اپنائی جائے۔ پہلی سماعت پر فریقین کو جوابات اور دستاویزات جمع کرانے کے لیے وقت دیا جائے، متنازعہ قانونی اور حقائق کے نکات متعین کیے جائیں اور مقدمے کی آئندہ کارروائی کا واضح شیڈول جاری کیا جائے۔ ان کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ وکلا اور عوام عدالتی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔فوجداری مقدمات سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سزائے موت کی 613 اپیلوں پر سماعت کا عمل آگے بڑھایا گیا، قبل از گرفتاری ضمانت کے 2,972 اور بعد از گرفتاری ضمانت کے 2,926 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ خاندانی مقدمات کی تعداد 1,752 رہی اور کرایہ داری کے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم ہو کر 133 تک آ گیا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار مقدمات کی درجہ بندی، ترجیحی سماعت اور مسلسل نگرانی کے مثبت اثرات ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس مقدمات کی بروقت سماعت قومی خزانے، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ 2011 سے 2021 کے دوران دائر کیے گئے 691 ٹیکس مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 1,044 مقدمات باقی تھے، جن میں سے 876 مقدمات 2025 اور 2026 کے دوران دائر ہوئے۔ ستمبر 2026 میں بار کو 395 ٹیکس مقدمات کی سماعت سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹیکس مقدمات کے لیے خصوصی بینچوں اور مقررہ سماعتی شیڈول کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے عدلیہ اور بار کے درمیان مؤثر رابطے کو عدالتی اصلاحات کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلا کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت، باقاعدہ اجلاس اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ وکلا کی تجاویز پر عمل درآمد اور اصلاحاتی اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جج صاحبان کو دوران سماعت وکلا اور عدالت میں پیش ہونے والے ہر شخص کے ساتھ عزت، تحمل اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وکلا کو اپنے مقدمات کے حقائق، قانونی نکات اور دلائل پیش کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے تاکہ منصفانہ سماعت کے آئینی تقاضے پورے ہوں۔ آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شخص کو منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق دیتا ہے۔ اسی طرح وکلا پر بھی لازم ہے کہ وہ وقت کی پابندی، مکمل تیاری اور جامع مگر مختصر دلائل کے ذریعے عدالتی کارروائی میں معاونت کریں۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد احکامات اور فیصلے بھی غیر ضروری تاخیر کے بغیر جاری ہونے چاہئیں۔انہوں نے عوام کو عدالتی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر، 1818 لیگل کال سینٹر اور قانونی معاونت کی سہولیات کو مثبت اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے مقدمات سے متعلق معلومات، درخواستوں کی وصولی، مصدقہ نقول اور شکایات کے ازالے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ ان سہولیات کو سپریم کورٹ کی دیگر برانچ رجسٹریوں تک بھی توسیع دی جانی چاہیے تاکہ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچایا جا سکے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، ای فائلنگ، ای آفس، پیپر لیس ورک فلو، ڈیجیٹل خط و کتابت اور احکامات و فیصلوں کی الیکٹرانک ترسیل عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ بھی مقدمات کی معلومات اور ریکارڈ کی تلاش میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کو جج کی آزادانہ رائے، عدالتی استدلال یا قانونی تشریح کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا استعمال انتظامی معاونت تک محدود رکھتے ہوئے معلومات کی درستگی، رازداری اور سائبر سکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کو انصاف تک رسائی بہتر بنانے کا موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سہولت سے قیدیوں، دور دراز علاقوں کے سائلین، وکلا اور گواہوں کو غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس دوران وکیل اور موکل کے درمیان محفوظ اور خفیہ رابطے کو یقینی بنانا اور منصفانہ سماعت کے حق کا تحفظ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کو صرف سپریم کورٹ تک محدود رکھنے کے بجائے وفاقی آئینی عدالت، ہائی کورٹس، ضلعی عدلیہ اور خصوصی ٹربیونلز میں بھی ان کے موزوں پہلو متعارف کرانے چاہئیں۔ ای فائلنگ، ڈیجیٹل ریکارڈ، مقدمات کے انتظام، ویڈیو لنک سماعتوں، ثالثی اور کارکردگی کے جائزے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ معیارات وضع کرنے میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم تمام عدالتی اداروں کی آئینی خودمختاری اور آزادی کا احترام برقرار رہنا چاہیے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کی حقیقی کامیابی کا معیار محض نئی پالیسیاں اور ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج ہیں۔ مقدمات کی پہلی سماعت 15 دن کے اندر یقینی بنانے، پرانے مقدمات کا بوجھ کم کرنے، غیر ضروری التوا ختم کرنے، ویڈیو لنک سہولت کو موثر بنانے اور فیصلوں کے بروقت اجرا پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ عدالتی کارکردگی کے اعداد و شمار باقاعدگی سے عوام کے سامنے شائع کیے جائیں تاکہ اصلاحات کی پیش رفت کا شفاف جائزہ ممکن ہو اور عدلیہ پر عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو سکے

مزید خبریں