اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 کے 22 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 سے …
سپریم کورٹ نے این اے 251 کے 22 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ معطل کردیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 کے 22 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا ۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شہزاد احمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 251 سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیدوار سید سمیع اللہ کامیاب ہوئے تھے۔الیکشن ٹربیونل نے 22 پولنگ سٹیشنز پر فارم 45 مسنگ ہونے کی بنیاد پر ان پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا جس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے 22 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے خلاف حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت سردیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران جے یو آئی کے سید سمیع اللہ کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔







