اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منظم منصوبے کے تحت مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پرتشدد کارروائی دہشت گردی ہے، 80 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت …
سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف سے متعلق 80 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا
اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منظم منصوبے کے تحت مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے پرتشدد کارروائی دہشت گردی ہے، 80 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت خوف وہراس پھیلانا اور کسی کو جانی و مالی نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے، اس طرح منصوبے کے تحت مذہبی فرقہ واریت پھیلانا، صحافیوں، کارباری برادری، عوام اور سوشل سیکٹر پر حملے بھی دہشت گردی ہے جبکہ منصوبے کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، لوٹ مار کرنا، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز پر حملے بھی دہشت گردی ہیں تاہم ذاتی دشمنی یا عناد کے سبب کسی کی جان لینا، ذاتی دشمنی اور عناد کے باعث جلاؤ گھیراؤ، بھتہ خوری دہشت گردی نہیں اور ذاتی عناد یا دشمنی کے باعث پولیس، افواج اور سرکاری ملازم کے خلاف پر تشدد واقعہ میں ملوث ہونا بھی دہشت گردی نہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 1974ء سے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے مختلف قوانین متعارف کرائے گئے ہیں اور انسداد دہشت گردی قانون انتہائی وسیع ہے اور قانون میں دہشت گردی کے حوالہ سے کئی اقدمات اور ڈیزائن ایسے شامل کئے گئے جن کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، دہشت گردی کے قانون میں ایسے سنگین جرائم کو بھی شامل کیا گیا جن کے سبب عدالتوں پرغیر ضروری بوجھ پڑتا ہے جبکہ اغواء برائے تاوان جیسے دیگر سنگین جرائم کو دہشت گردی میں شامل کرنے کے باعث دہشت گردی کے اصل مقدمات کے ٹرائل میں تاخیر ہوتی ہے اس لئے ہم پارلیمنٹ کو سفارش کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے حوالے سے نئی تعریف کا تعین کیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پارلیمنٹ دہشت گردی کی تعریف کیلئے بین الااقوامی معیار کے تناظر میں سیاسی، نظریاتی اور مذہبی مقاصد کا حصول مدنظر رکھے کیونکہ بین الاقوامی سطح پر یہ طے ہو چکا ہے کہ سیاسی، نظریاتی یا مذہبی مقاصد کے حصول کے بغیر پرتشدد کارروائی دہشت گردی نہیں۔ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں شامل ان تمام جرائم کو ختم کیا جائے جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔









