اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمرقید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے دونوں درخواستیں مسترد کردیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں ملزم عثمان محبوب عرف اسامہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہےجس میں ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے …
سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمرقید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے درخواستیں مسترد کردیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمرقید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے دونوں درخواستیں مسترد کردیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے ایک مقدمے میں ملزم عثمان محبوب عرف اسامہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہےجس میں ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مقدمے میں محرک ثابت نہ ہونے کی بنا پر سزائے موت برقرار رکھنا مناسب نہ تھا، اس لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون و انصاف کے عین مطابق ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 516/2021 اور کریمنل پٹیشن نمبر 1215/2021 پر فیصلہ سناتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دیں۔ایف آئی آر کے مطابق 19 مئی 2017 کو کہوٹہ میں تقریب کے دوران ملزم نے مقتول عدنان جاوید پر 7 سے 8 فائر کیے، جس سے وہ زخمی ہوا اور اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت اور دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جبکہ معاوضہ برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ میں ملزم کے وکیل نے گواہوں کے بیانات میں معمولی تضادات، موقع سے برآمد خالی خول کے محفوظ نہ کیے جانے اور نقشہ نویس کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر بریت کی استدعا کی تاہم عدالت نے ان اعتراضات کو غیر مؤثر قرار دیا اور کہا کہ بیانات میں معمولی اختلافات فطری ہوتے ہیں جبکہ وقوعہ متعدد گواہوں کے سامنے پیش آیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ بات واضح ہے کہ ملزم نے مقتول پر متعدد فائر کیےتاہم محرک ثابت نہ ہونے کے باعث ہائی کورٹ نے درست طور پر رعایت دی اور سزا کو عمرقید میں تبدیل کیا۔ فیصلے میں 2025 کے دو سپریم کورٹ نظائر کا حوالہ بھی دیا گیا جن میں محرک کے فقدان کی صورت میں سزائے موت نہ دینے کے اصول کی توثیق کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جب عدالت نے زبانی حکم میں ملزم کی اپیل خارج کرنے کا اعلان کیا تو مدعی مقدمہ کے وکیل نے سزائے موت بحال کرنے کی درخواست واپس لے لی جس پر وہ بھی خارج کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے وجوہات کے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا شواہد سے متعلق سقم نہیں پایا گیا، لہٰذا اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔








