نامور محقق، افسانہ نگار ،شاعر ڈاکٹر انیس ناگی کی سالگرہ منائی گئی

نامور محقق، افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد، کالم نگار، مترجم اور شاعر ڈاکٹر انیس ناگی کی 87 ویں سالگرہ منائی گئی

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):نامور محقق، افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد، کالم نگار، مترجم اور شاعر ڈاکٹر انیس ناگی کی 87 ویں سالگرہ منائی گئی۔ انیس ناگی 1939 کو شیخوپورہ میں پیدا ہوئے اور ان کا خاندانی نام یعقوب علی ناگی تھا۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے (اردو) اور جامعہ پنجاب سے اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ انیس ناگی گورنمنٹ کالج لاہور کے میگزین راوی کے مدیر بھی رہے۔ بعد ازاں انیس ناگی نے سول سروس کا امتحان پاس کیا اور ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن سمیت مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ 1999میں وہ بورڈ آف ریونیو کے رکن کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔انیس ناگی کا ادبی سفر بہت طویل ہے۔ انھوں نے شاعری، ناول، افسانہ، تنقید اور تراجم میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہت احسن طریقے سے اجاگر کیا ۔ انھوں نے جذباتی نثر کی بجائے کارآمد نثر تخلیق کی اور شعوری طور پر ناول کو ادبی زبان کے برعکس عام بول چال میں قلمبند کیا۔ انیس ناگی کی جدید اردو نظم کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی بہت پزیرائی ملی۔ انیس ناگی 1960 کی دہائی میں نئی شاعری کی تحریک کے نام سے سامنے آنے والے ان لوگوں میں شامل تھے جن کے لیے رائج شاعری کا روایتی اظہار ناقابلِ قبول تھا اور وہ شاعری میں نئے اظہار کو رواج دینا چاہتے تھے۔ نئی شاعری کی اس تحریک کے نمایاں لوگوں میں ان کے ساتھ جیلانی کامران، افتخار عارف، محمد سلیم الرحمان، عباس اطہر، زاہد ڈار، فہیم جوزی اور سعادت سعید کے نام بھی شامل ہیں۔انہوں نے اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو پر بے شمار کام کیا ۔ انیس ناگی کا اہم ترین ناول زوال ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان کا دوسرا مقبول ناول دیوار کے پیچھے ہے جسے اردو میں ناول کی نئی روایت کا آغاز کہا جاتا ہے ۔انیس ناگی نے تنقید میں بھی کام کیا اور نظمیں بھی لکھیں۔ ان کی نظموں میں انتشار، بے سمتی اور ابہام سے پر تصورات موجود ہیں۔ انیس ناگی کی شاعری اور نثر کی 50سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔انیس ناگی 7 اکتوبر 2010 کو پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں دوپہر کے وقت کتابوں کے مطالعے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئےاور انہیں علامہ اقبال ٹائون رضا بلاک لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔انیس ناگی کی سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی ِ صحافتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔