یورو بانڈز کا اجرا ء معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت ،قرضوں پر انحصار کم، برآمدات،صنعتی پیداوار بڑھانا ہوگی ،پیاف

پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ یورو بانڈز کا اجرا ء معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت ہے،قرضوں پر انحصار کو کم سے کم کرنے جبکہ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ یورو بانڈز کا اجرا ء معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت ہے،قرضوں پر انحصار کو کم سے کم کرنے جبکہ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

پیاف کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف پیاف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے جمعرات کو جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے 3ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کا اجرا ء عالمی مالیاتی منڈی میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی ساکھ اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا عکاس ہے تاہم بیرونی قرضوں کے طویل مدتی اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یورو بانڈز کے اجرا ء سے قرضوں کی ری فنانسنگ اور رول اوور کے دبا ئومیں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور زرمبادلہ کے مستقل ذرائع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ پیاف کے رہنمائوں نے کہا کہ حکومت کو بہتر ہوتی ہوئی کریڈٹ ریٹنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں کم شرح سود پر فنانسنگ کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ حاصل کیے جانے والے قرضوں کو غیر پیداواری اخراجات کے بجائے صنعتی، برآمدی اور پیداواری شعبوں میں استعمال کیا جائے تاکہ قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو میں اضافہ کیلئے یورو بانڈز کا اجرا ء معاشی استحکام کی جانب اہم پیشرفت ہے تاہم قرضوں پر انحصار کو کم کرنے سمیت برآمدات اور صنعتی پیداوار کو بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت میں کمی، توانائی کی مسابقتی قیمتوں، سستی فنانسنگ اور ٹیکس نظام میں آسانیوں سے معاشی نمو کی رفتار بڑھائی جا سکتی ۔ پیاف کے رہنمائوں نے حکومت پر زور دیا کہ نجی شعبے کو بیرونی سرمایہ اور جدید مشینری کے حصول میں درپیش رکاوٹیں دور کی جائیں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی اور معاشی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدی شعبے کے لیے نئے عالمی منڈیاں تلاش کی جائیں اور برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کے رول اوور کا دبا ئوکم کرنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس وصولی میں بہتری اور سرکاری اخراجات میں کمی ضروری ہے۔ پائیدار معاشی استحکام نئے قرضوں کے حصول کے بجائے صنعتی پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور ملکی آمدن میں اضافے سے ممکن ہوگا، اس لیے حکومت کو معاشی اصلاحات کا عمل مزید تیز کرنا چاہیے۔