سپریم کورٹ نے پرانی گاڑیوں کی درآمد کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کر دیں

سپریم کورٹ نے پرانی گاڑیوں کی درآمد کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کر دیں

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کے تحت مقررہ عمر کی حد سے زائد گاڑیوں کی درآمد سے متعلق اہم مقدمے میں دائر 30 نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نظرثانی کا اختیار اپیل کا متبادل نہیں اور عدالت اپنے ہی فیصلے پر دوبارہ سماعت نہیں کر سکتی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 4 دسمبر 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر سول ریویو پٹیشنز نمٹاتے ہوئے تفصیلی حکم جاری کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کے ضمیمہ "ای” (Appendix-E) اور ایس آر او 499(I)/2009 کے تحت مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمد کی گئی گاڑیاں ریڈمپشن فائن ادا کرکے واپس لینے کی اہل نہیں ہیں۔ عدالت نے یاد دلایا کہ اپنے سابق فیصلے میں اس نے ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے کر محکمہ کسٹمز کے ضبطی کے احکامات بحال کر دیے تھے۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 188 اور سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت نظرثانی کا دائرہ اختیار محدود ہے اور صرف ایسے واضح اور نمایاں قانونی یا حقائق پر مبنی نقائص کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو ریکارڈ سے بادی النظر میں ظاہر ہوں۔ محض یہ مؤقف اختیار کرنا کہ عدالت نے قانون کی تشریح غلط کی ہے، نظرثانی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی جانب سے بعض سابقہ احکامات پر انحصار کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ احکامات "پر انکیوریم” (Per Incuriam) تھے کیونکہ ان میں تنازع کے بنیادی قانونی فریم ورک، یعنی Appendix-E اور ایس آر او 499(I)/2009، کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔ ایسے احکامات نظیر کی حیثیت نہیں رکھتے اور ان کی بنیاد پر عدالتی فیصلے پر نظرثانی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے مزید کہا کہ 2025 کے مقدمہ بشیر احمد بنام ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) میں بھی سپریم کورٹ نے اسی قانونی تشریح کو اختیار کیا تھا جو زیر نظر فیصلے میں اپنائی گئی، اس لیے عدالتی آراء میں کسی تضاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار کسی ایسے واضح قانونی نقص یا ریکارڈ پر موجود غلطی کی نشاندہی نہیں کر سکے جو نظرثانی کے اختیار کے استعمال کا جواز فراہم کرتی ہو۔ درخواستوں میں دراصل انہی نکات کو دوبارہ اٹھایا گیا جن پر عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے، جو قانوناً قابل قبول نہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نظرثانی درخواستیں کسی قانونی جواز اور میرٹ سے محروم ہیں لہٰذا انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔