سپین میں دسیوں ہزار تارکین وطن کی اچانک آمد ، اٹلی کے ساتھ سفارتی تنازعہ شدت اختیار کر گیا

سپین کے علاقے سیوٹا میں دسیوں ہزار تارکین وطن کی اچانک آمد کے معاملے پر اس کا اٹلی کے ساتھ سفارتی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ، حکومت نے اطالوی شہریوں کے لیے سرحدی نگرانی کے اقدامات کا اعلان کردیا، یہ فیصلہ اٹلی کی جانب سے سپین سے آنے والے مسافروں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا۔

میڈرڈ ۔9اگست (اے پی پی):سپین کے علاقے سیوٹا میں دسیوں ہزار تارکین وطن کی اچانک آمد کے معاملے پر اس کا اٹلی کے ساتھ سفارتی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ، حکومت نے اطالوی شہریوں کے لیے سرحدی نگرانی کے اقدامات کا اعلان کردیا، یہ فیصلہ اٹلی کی جانب سے سپین سے آنے والے مسافروں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا۔

اردو نیوز نے سپین کی سرکاری خبر رساں ادارے (ای ایف ای )کے حوالے سے بتایا کہ رات گئے نئے سرحدی اقدامات نافذ کیے جانے کے بعد بارسلونا ایئرپورٹ پہنچنے والے اطالوی شہریوں کی پولیس نے چیکنگ کی، یہ اقدامات کم از کم ایک ماہ تک جاری رہیں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جمعے کو سپین کی اس تنبیہ کو مسترد کر دیا کہ اگر اٹلی نے 9 اگست کی مقررہ تاریخ تک اپنی پابندیاں ختم نہ کیں تو سپین اپنے شہریوں کے مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے متناسب اقدامات کرے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم کی جانب سے سپینی ہم منصب پیڈرو سانچیز کی مہاجرت سے متعلق ترقی پسند پالیسیوں پر شدید تنقید کے بعد انہوں نے یکم اگست سے سپین کے شہریوں کے لیے فضائی اور بحری سرحدوں پر چیکنگ کا نفاذ شروع کیا تھا۔یہ تنازعہ گزشتہ ماہ کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب مراکش سے تقریباً 72 ہزار تارکین وطن اچانک سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا پہنچ گئے۔

ہسپانوی اور مراکشی حکام کے مطابق بیشتر تارکین بعد ازاں واپس چلے گئے، تاہم 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں بعض افراد سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کچھ سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ میں کچلے گئے۔سیوٹا میں تارکین کی اس بڑے پیمانے پر آمد نے یورپی یونین کے اندر بھی مہاجرت کے معاملے پر بحث دوبارہ چھیڑ دی۔ یونین کے بعض رہنماؤں نے سانچیز کی ان پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں ان کے خیال میں تارکین وطن کی اس غیر معمولی تعداد میں آمد کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔جارجیا میلونی جیسے سخت گیر مؤقف رکھنے والے یورپی رہنماؤں نے بالخصوص سپین کی ان پالیسیوں کی نشاندہی کی جن میں حکومت کا یہ فیصلہ بھی شامل تھا کہ ایسے تارکین وطن کو عام معافی دی جائے جو رہائشی اجازت نامے کے بغیر ملک میں مقیم ہیں، تاہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں رہ رہے ہیں اور رواں سال یکم جنوری سے پہلے ملک میں داخل ہوئے تھے۔

گزشتہ ماہ کے اختتام پر درخواست دینے کی مدت ختم ہونے تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے اس سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرائی تھیں۔27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں شینگن کے نام سے ویزا فری سفری نظام رائج ہے جس کے تحت بیشتر رکن ممالک کے شہری کام اور سیاحت کے لیے سرحدوں کے پار نسبتاً آسانی سے سفر کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم میلونی کے دفتر نے گزشتہ روز کہا کہ اطالوی حکام کا سپین سے بحری یا فضائی راستے سے آنے والے افراد کی سرحدی چیکنگ کم از کم 15 اگست تک ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ تاریخ سپین کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے چھ روز بعد ہے۔ایک بیان میں کہا گیا کہ اٹلی قومی سلامتی اور سرحدی نگرانی کے معاملے پر بیرونِ ملک سے دی جانے والی دھمکی آمیز مہلت یا عائد کردہ شرائط قبول نہیں کرتا۔بیان میں کہا گیا کہ اگر سیوٹا میں تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر آمد دوبارہ ہوئی تو اٹلی اپنے سرحدی چیکنگ کے فیصلے پر اس وقت ہی نظرثانی کرے گا جب اسے یقین ہو جائے گا کہ اسے سلامتی یا دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں، تارکین وطن کی نئی لہر نہیں آئے گی اور کوئی غیر قانونی تارکِ وطن یورپی سرزمین کی جانب پیش قدمی نہیں کر رہا۔