24.1 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںسیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی روایت بانی چیئرمین پی...

سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے ڈالی، عدم برداشت پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال

- Advertisement -

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے ڈالی، پی ٹی آئی نے اپنے دور میں انتقامی سیاست کی تمام حدیں پار کیں، عدم برداشت ان کا وطیرہ بن چکی ہے، سچ سننے کی ہمت رکھنی چاہئے، یہ ملک ہے تو سیاست ہے، کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر اس ملک سے بڑا نہیں ہے، نواز شریف نے ہمیشہ ملک میں رواداری کی سیاست کو فروغ دیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن نے رول آف لاءکی بات کی ہے لیکن ان میں جواب سننے کی ہمت اور حوصلہ نہیں، عدم برداشت ان کے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں سیاسی روایات کے امین ہیں، اس ملک کی سیاسی روایات صاف شفاف دریا کی طرح تھیں جسے ان لوگوں نے منظم مہم کے ذریعے زہر آلود کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں برداشت، سیاسی روایات اور رواداری کی بات کی جاتی ہے لیکن ان کی تقریر میں کبھی فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کا ذکر نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں فلسطین پر منعقد ہونے والی اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی، اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوئیں لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا کیونکہ فلسطین پر بات کرنا ان کے منشور کا حصہ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ زیک گولڈ سمتھ کی مہم چلا سکتے ہیں اور ان کی تعریف کر سکتے ہیں۔ ان کے ٹویٹر اکائونٹ سے آرمی چیف، اداروں، سیاسی لیڈروں کے خلاف ٹویٹ ہو سکتے ہیں لیکن کوئی ایک ٹویٹ زیک گولڈ سمتھ کے خلاف دکھا دیں جس نے ڈنکے کی چوٹ پر اسرائیل کی حمایت اور فلسطینیوں کے خلاف ٹویٹ کئے اور فلسطینیوں کو نیست و نابود کرنے کی بات کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایس سی او سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، کیا یہ ان کی روایات ہیں؟ یہ 9 مئی کو حملے کر کے شہداءکی یادگاروں کو مسمار کرتے ہیں، کبھی آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب فلسطین پر بات کرنے کیلئے انہیں بلایا جائے تو یہ آنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کے تشخص اور عزت کی بات آتی ہے تو یہ احتجاج کا اعلان کر دیتے ہیں اور آپس میں لڑ پڑتے ہیں، انہوں نے ایس سی او کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے ایس سی او کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ہمارے درمیان سیاسی مخالفت کی ایک تاریخ رہی ہے لیکن ہمیں فخر ہے کہ اس مخالفت کے اندر سیاسی دشمنی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو سب سے پہلے محمد نواز شریف ہسپتال پہنچے، ہم ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت اپنا فرض سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ایسا لیڈر بھی آیا جس نے کہا تھا کہ ان کی تقریبات میں کوئی نہ جائے، ان سے ہاتھ کوئی نہ ملائے، ان کی خوشی غمی میں شرکت نہ کی جائے۔

- Advertisement -

وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی مخالفت کو سیاسی دشمنی میں بدلا، آج یہ لمٹ کی بات کر رہے ہیں، ہماری شرافت اور رواداری کو ہمیشہ انہوں نے ہماری کمزوری سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءکے الیکشن میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی جب کرین سے گر کر زخمی ہوئے تو محمد نواز شریف نے اپنی الیکشن مہم اس لئے معطل کر دی تھی کہ ان کا سیاسی مخالف زخمی ہوگیا تھا۔ نواز شریف پوری پارٹی کو لے کر شوکت خانم ہسپتال میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی تیمار داری کے لئے گئے اور جب الیکشن ختم ہوا تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے بنی گالا گئے اور کہا کہ الیکشن ختم ہو گئے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی معیشت اور عوام کی بہتری و خوشحالی کے لئے مل جل کر کام کریں اور اس ملک کو آگے بڑھائیں لیکن اسے ہماری کمزوری سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لیڈر چاہتا تھا کہ اس ملک میں سیاسی روایات قائم رہیں اور سیاستدان آپس میں بات چیت کریں اور مل کر اس ملک کو آگے لے کر چلیں، اس لیڈر کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کہ اس کی اہلیہ بستر مرگ پر تھی اور انہیں فون کال تک کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی روایت ڈالی، فریال تالپور کو چاند رات کو ہسپتال سے جیل بھیجا گیا، مریم نواز شریف کو ان کے والد کے سامنے جھوٹے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ شہباز شریف کی بیٹیوں کے گھروں کا گھیرائو کیا گیا، علیم خان اور جہانگیر ترین کے خاندانوں پر جھوٹے پرچے کاٹے گئے، رانا ثناء اللہ پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے سیاستی انتقام میں تمام حدیں پار کیں، آئین و قانون کو پامال کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کیں اور آج یہ مظلومیت کی داستان بیان کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں انہوں نے اپنے اراکین کو خود اغواءکر کے بند کر رکھا ہے اور یہاں مظلومیت کا پرچار کر رہے ہیں، آج یہاں جو خالی بینچ نظر آ رہے ہیں کیا یہ پولیس یا رینجرز نے خالی کروائے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کل انہوں نے ایک دھمکی آمیز پیغام دیا کہ اگر کوئی ہمارے لیڈر سے غدداری کرے گا تو ہم اس کا جینا دوبھر کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کی رٹ قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ہماری شرافت کو ہماری کمزوری سمجھا ہے، 2018 سے 2022 تک سیاہ ترین دور تھا، اس وقت ان کا اپنا طرز عمل کیا تھا؟ یہ بہنوں بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے، انتقامی سیاست میں یہ آخری حد تک گئے جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کیا، مشرق و مغرب کو ناراض کیا، آج ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہی ہے کہ پاکستان میں 12 وزرائے اعظم آئے، پاکستان کے خطے میں کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے، پاکستان کی عالمی تنہائی ختم ہو گئی ہے جو انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے دور میں بدترین سیاسی انتقام کے ہوتے ہوئے انہی بینچوں پر شہباز شریف نے کھڑے ہو میثاق معیشت کی بات کی تھی لیکن تب ان کے اندر انا اور تکبر تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ترقی کر رہا ہے، 8.8 ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان آئی ہیں، مہنگائی 6.9 فیصد پر سنگل ڈیجیٹ پر آ گئی ہے، شرح سود میں کمی ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹس 3.2 ارب تک پہنچ گئی ہیں اور پاکستان کی یہ ترقی انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔ کچھ عناصر کہتے تھے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، پاکستان سے کوئی سیاسی جماعت یا لیڈر بڑا نہیں ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا ہے تو اسے کوئی حق نہیں کہ وہ پاکستان میں سیاست کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہے تو سیاست ہے، یہ ملک ہے تو وزارتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے کامیاب انعقاد پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی سطح پر تشخص بحال ہوا ہے، اس سے ہماری معیشت بھی بہتر ہوگی۔\932

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں