سیالکوٹ ۔ 30 جنوری (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا ہے کہ سیالکوٹ نے اقبال ، فیض، ظہیر عباس اور شہناز شیخ جیسے سپوتوں کو جنم دیا ، یہ شہر اپنی تاریخی، جغرافیائی ، سیاسی اور معاشی لحاظ خطہ میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔یہ بات انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کی زیر نگرانی ان لینڈ سٹڈی ٹور 42 ویں مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس کے شریک 13 رکنی وفد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری نیپا سروش اعجاز، عبد الروف مہر،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا کہ سیالکوٹ 8 ہزار کے قریب آلات جراحی، چمڑے کے مصنوعات، ٹیکسٹائل گڈز، میوزیکل انسٹرومنٹ، کٹلری اور سٹیل اور زرعی آلات تیار کرنے والے سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کام کررہی ہیں اور یہاں تیار کئے جانے والے کھیلوں کا سامان، لیدر ، سرجیکل اور ہوزری کی پراڈکٹ 100 فیصد ایکسپورٹ کردی جاتی ہے۔ ایک سال قبل حکومت پنجاب نے ایوان صنعت و تجارت کے ساتھ ملکر بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر سیالکوٹ قیام عمل لایا گیا اور اب تک تقریباً 5 ہزار بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے افراد بی ایف سی میں لائسنس، این او سیز اور مشاورت کیلئے رجوع کیا ہے تمام کو کامیابی سے سروس فراہم کی گئی ہے صرف 49 درخواستیں انڈر ہیں۔
ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا کہ حکومت پنجاب اور ایوان صنعت و حرفت کے اشتراک لیدر انڈسٹریز کو عالمی ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سیالکوٹ ٹینری زون کا قیام میں عمل میں لا چکی ہے جہاں پر سیالکوٹ کی ٹینریوں کی منتقلی کا آغاز ہوچکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور دیگر محکموں کی کلیدی کارکردگی جانچنے کیلئے اشاریئے دیئے گئے ہیں اور اسی اعتبار سے ڈپٹی کمشنر سمیت تمام محکموں کی ریٹنگ بھی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ایم پنجاب نے کلینک آن ویل، کسان کارڈ، ہمت کارڈ، منیارٹی کارڈ، دی رانی پروگرام، آر ایچ سیز اور بی ایچ یو کی ری ویمپنگ، سکولز اینڈ ہیلتھ کونسلز کو فعال بنانے اور پرائس کی میکنیزم کو رئیل ٹائم مانیٹر کیلئے آٹو میشن پراجیکٹ شروع کئے ہیں۔ اسی طرح پنجاب سوزو اکنامک رجسٹری کے ذریعے محدود آمدن کے حامل خاندانوں کی رجسٹریشن کیلئے یونین کونسل کی سطح پر رجسٹریشن سنٹر کام کررہے ہیں جبکہ پنجاب اربن لینڈ سسٹمز پلس کے تحت ونڈا جات کی تقسیم کے پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے۔
ستھرا پنجاب کے تحت شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے یکساں نظام کو آؤٹ سورس کردیا گیا ہے جبکہ پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت 16 ارب کی لاگت سے سیالکوٹ شہر کی واٹر سپلائی ، سیوریج سسٹم ، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بحالی و آپ گریڈیشن کا پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=553717