سید علی گےلانی کا عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرانے کا مطالبہ

سرینگر ۔ 7 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گےلانی نے لوگو ں سے10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میںجای انسانی حقوق کی سنگین صوتحال کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری اےک …

سرینگر ۔ 7 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گےلانی نے لوگو ں سے10دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میںجای انسانی حقوق کی سنگین صوتحال کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری اےک بیان میں عوام پر زوردیا کہ عالمی برادری کو اس بات کی یاددہانی کرانے کے لئے اس دن مکمل ہڑتال کی جائے کہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کو روکنا اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانا اس کی ذمہ داری ہے ۔ حریت چیئرمین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خوفناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لے۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ جب دنیا انسانی حقوق کا دن منارہی ہے بھارت کی قابض افواج کشمیر ی عوام پر ظلم وبربریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ جس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10دسمبر 1948کو منظوری دی تھی، ہرانسان کے حقوق اور آزادی کے لئے سنگین میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس عالمی دستاویز کے باوجود کشمیر ی عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق مسلسل پامال کئے جارہے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ کشمیر ی عوام کے حق خودارادیت سے مسلسل انکار انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حق خودارادیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے کشمیر ی عوام سے بھی کیا تھا لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرکے اس حق کو سلب کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا بدقسمتی سے دنیا نے ان خلاف ورزیوں پر کوئی توجہ نہیں دی جس سے نہتے اور پرامن کشمیریوں پر مظالم ڈھانے میں بھارت کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ حریت چیئرمین نے کہاکہ تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے مظالم برداشت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی کی ہٹ دھرمی اس تنازعے کے پرامن حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نہ صرف کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ، حق خودارادیت دینے سے انکار کررہا ہے بلکہ وہ طاقت کے بل پر مسلسل ان کے شہری اور سیاسی حقوق پا مال کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج موجود ہے انسانی حقوق کی پامالیاں جاری رہیں گی۔ انہوںنے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر اپنی خاموشی توڑ دے اور بھارت سے اس کے جرائم کا حساب مانگے۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن بھارت ان کی جائز خواہشات کو دبانے کے لئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نے انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں دیکھی ہیں اور آج بھی دیکھ رہے ہیںکیونکہ 5اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کے بعد اس کی ریاستی دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر پہلے ہی دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والا علاقہ ہے اور 5اگست کے بعد یہاں مسلسل فوجی محاصرہ ہے جبکہ مواصلاتی ذرائع معطل ہیں اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔ حریت چیئرمین نے کہاکہ کشمیری عوام گزشتہ 70سال سے بھاتی فورسز کے مظالم کا سامنا کررہے ہیں جو کشمیریوں کو غلام بنانے، ان کی زندگیوں، حقوق ،ثقافت اور وقار کو اپنی مٹھی میں کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کو کشمیر میں ایک دن شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تحاریک آزادی کو طاقت کے بل پر ہمیشہ کے لئے دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ انہون نے کہاکہ کشمیریوں کاجذبہ حریت غاصبوں کے ہتھکنڈوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ آج جب بھارتی حکمران کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست دینے کے لئے مظالم میں کئی گناہ اضافہ کرکے اپنے تعصب کا اظہار کررہے ہیں، یہ ہر کشمیری کا فرض ہے کہ وہ ثابت قدم رہے ، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے اور آزادی کی مشعل کو روشن رکھے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے شہداءکے مقدس لہوسے مزین جدوجہد آزادی کوکوئی شکست نہیں دے سکتا اورآزادی اور حق خودارادیت کے لئے جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔