وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہائوسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز، ہائوسنگ اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی میں بہتری سے روزگار، سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہائوسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کی پذیرائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہائوسنگ، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز، ہائوسنگ اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی میں بہتری سے روزگار، سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں و بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی کاوشوں کو سراہنے کیلئے بینکوں کے صدور و سی ای اوز کے وفد سے ملاقات کی اور وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکوں کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز، ہائوسنگ اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی میں بہتری سے روزگار، سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کے استفادے کیلئے سٹیٹ بینک قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کے عمل کو مزید آسان بنائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے، چھوٹے کسانوں تک مالی وسائل کی رسائی کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے اپنانے اور اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے کسانوں تک رسائی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک کا بڑا بینک وہ ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو۔ وفد نے وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کے معاشی استحکام اور معیشت کی سمت کی بہتری پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وفد کے ارکان نے کہا کہ ترجیحی شعبہ جات میں قرضے مہیا کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون مزید بہتر بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے عوام کو اپنے گھر کا مالک بنانے، چھوٹے کاروباروں کو مالی وسائل فراہم کرنے اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بینکاری شعبے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 426 ارب روپے کی مالیت کے قرضے منظور ہو چکے ہیں، ان میں سے 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ مالی سال 27 ۔ 2026 کے لیے اس پروگرام کے تحت 125,000 رہائشی یونٹس کی تعمیر و فراہمی کے لیے 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور رقوم کی فراہمی کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جائے، کیونکہ شہریوں کو حقیقی فائدہ اسی وقت پہنچے گا جب منظور شدہ رقم ان تک بروقت پہنچے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈویلپرز کی قرضوں تک رسائی کیلئے فریم ورک پر مشاورت جاری یے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ای شعبے میں تقریباً 350,862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جون 2027ء تک قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 565,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ستمبر 2026ء کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ 3,455,313 افراد اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جون 2027ء تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ملاقات میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کے ساتھ ساتھ نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، میزان بینک، بینک الفلاح، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی اور ہائوس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن کے صدور و سی ای اوز کے ساتھ متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی.







