سیلاب زدہ علاقوں میں جلدی بیماریوں میں اضافہ، ماہرِ امراض جلد کی عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):ماہرِ امراض جلد نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں جلدی بیماریوں، خصوصاً فنگس (پھپھوندی) کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید بلال شمس نے کہا کہ سیلاب اور گندے پانی میں موجود جراثیم جلد کے امراض کا باعث بن رہے ہیں اور کئی علاقوں سے فنگل اور بیکٹیریل انفیکشن کے کیسز …

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):ماہرِ امراض جلد نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں جلدی بیماریوں، خصوصاً فنگس (پھپھوندی) کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سید بلال شمس نے کہا کہ سیلاب اور گندے پانی میں موجود جراثیم جلد کے امراض کا باعث بن رہے ہیں اور کئی علاقوں سے فنگل اور بیکٹیریل انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی اور نمی فنگس کے پھیلاؤ کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں، جس سے جلدی مسائل میں شدت آ سکتی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صاف صفائی کا خاص خیال رکھیں، گندے پانی سے بچیں اور کسی بھی جلدی علامت کی صورت میں فوراً معالج سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر شمس نے مقامی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام میں صفائی، احتیاطی تدابیر اور جلدی بیماریوں سے متعلق آگاہی مہم شروع کریں تاکہ ان بیماریوں پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی پانی میں چھپی ہوئی چیزیں جیسے نوکیلے دھات کے ٹکڑے، شیشہ، لکڑی یا بجلی کی تاریں بھی چوٹ کا سبب بن سکتی ہیں جبکہ جانوروں سے بھی خطرات لاحق ہیں۔ ڈاکٹر شمس نے کہا کہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی جلدی بیماریاں بعض اوقات پورے جسم پر اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے ان کی بروقت تشخیص اور علاج بے حد ضروری ہے۔

 

مزید خبریں