اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائڈ) کے زیر اہتمام "سیلاب زدہ علاقوں میں صنفی حساس کمزوریوں کو سمجھنا" کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرین نے کہا کہ سیلاب صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ معاشرتی ناہمواریوں کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ سیمینار کی نظامت ڈاکٹر رابعہ منظور نے کی جبکہ مقررین میں معروف سماجی کارکن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اسپیشلسٹ نیلوفر آفریدی قاضی، اسلامک …
سیلاب صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ معاشرتی ناہمواریوں کا امتحان بھی ہوتے ہیں، پائڈ کےسیمینار میں ماہرین کا اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائڈ) کے زیر اہتمام "سیلاب زدہ علاقوں میں صنفی حساس کمزوریوں کو سمجھنا” کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرین نے کہا کہ سیلاب صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ معاشرتی ناہمواریوں کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ سیمینار کی نظامت ڈاکٹر رابعہ منظور نے کی جبکہ مقررین میں معروف سماجی کارکن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اسپیشلسٹ نیلوفر آفریدی قاضی، اسلامک ریلیف پاکستان کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر رضا نریجو اور مائناریٹی ویمن فورم کی جیا جگی شامل تھیں۔
نیلوفر آفریدی نے کہا کہ آفات پہلے سے موجود مسائل جیسے غربت، جہالت اور وسائل کی کمی کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ رضا نریجو نے مطالبہ کیا کہ خواتین ریسکیو ورکرز کی تعداد بڑھائی جائے اور آفات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ جیا جگی نے اقلیتوں، معذور افراد اور خواتین کے زیرِ کفالت گھرانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ امدادی مراکز معذور افراد کے لیے قابل رسائی نہیں ہوتے اور بنیادی سہولیات مثلاً ٹوائلٹس اور صاف پانی کی کمی ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین کی قیادت میں مقامی تنظیموں کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں شامل کیا جائے۔ مقررین نے زور دیا کہ پاکستان کو ردِعمل پر مبنی نظام کے بجائے ایک جامع، صنفی حساس اور شمولیتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ آفات کے دوران ہر فرد کی جان اور عزت دونوں محفوظ رہ سکیں۔








