سینیٹر خالدہ عطیب کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس
سینیٹر خالدہ عطیب کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے قومی الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لئے پالیسیوں کے تسلسل اور مؤثر تحفظ کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عون عباس بپی کی عدم موجودگی میں متفقہ طور پر نامزد کی گئی سینیٹر خالدہ عطیب نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر مسرور احسن، دنیش کمار، حسنہ بانو شریک ہوئے جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے سیکرٹری نے کمیٹی کو قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پالیسی پانچ سال کے لئے نافذ العمل ہوگی اور 1990ء سے وزارت کی تمام صنعتی پالیسیاں پانچ سالہ مدت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جاتی رہی ہیں تاکہ پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے کہا کہ سرمایہ کار اکثر سرمایہ کاری کے بعد ٹیکس اور ریگولیٹری نظام میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں اس لئے وزارت کو اپنی پالیسیوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا چاہئے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت کا ہدف 2030ء تک ملک بھر میں تین ہزار الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشن قائم کرنا ہے جبکہ اب تک 72 سے زائد لائسنس جاری کئے جا چکے ہیں۔ چارجنگ سٹیشن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کئے جائیں گے اور حکومت سرمایہ کاروں کو مالی معاونت بھی فراہم کرے گی۔حکام نے بتایا کہ 2030ء تک پاکستان میں تقریباً 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں مختلف اقسام میں سڑکوں پر موجود ہوں گی۔
اب تک مقامی سطح پر 12 ہزار 800 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار کی جا چکی ہیں۔ حکومت نے دو اور تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں کے لئے 9 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جبکہ ہر اہل خریدار کو الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اب تک تقریباً 5 ہزار 700 افراد اس سکیم سے بینک فنانسنگ حاصل کر چکے ہیں۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے تجویز دی کہ سبسڈی براہ راست اصل سازندہ کمپنیوں (او ای ایمز) کو منتقل کی جائے تاکہ شفافیت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے بتایا کہ سبسڈی کے تحت خریدی گئی الیکٹرک موٹر سائیکل کی ملکیت دو سال تک منتقل نہیں کی جا سکے گی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے مقامی صنعت کے فروغ کے لئے وزارت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف کراچی میں ہی چار سے پانچ ہزار چارجنگ سٹیشنوں کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے الیکٹرک بائیکس بنانے والی کمپنیوں، ان کی پیداواری صلاحیت اور ملک گیر چارجنگ انفراسٹرکچر کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کیں۔ سیکرٹری وزارت نے بتایا کہ 3 سے 7 کلوواٹ بیٹری والی الیکٹرک موٹر سائیکلیں عام 220 وولٹ بجلی پر چارج ہو سکتی ہیں جبکہ جدید بیٹری ٹیکنالوجی کی بدولت الیکٹرک گاڑیاں 400 سے 500 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سٹار چارج اور حبکو سمیت کئی کمپنیاں پاکستان میں چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں صنعت و پیداوار، پٹرولیم اور توانائی کی وزارتیں مشترکہ طور پر الیکٹرک وہیکل پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے جامع بریفنگ دیں گی۔
اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ملازمین کی دو ماہ قبل تنخواہیں جاری کر دی گئی تھیں جبکہ ضامن ملازمین کو بھی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین سے متعلق تقریباً 15 ارب روپے کے واجبات تاحال وزارتِ خزانہ کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ سکیورٹی اور چوری کے معاملات پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ملز کی بندش کے بعد چوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ڈی ایس ایف، مقامی پولیس اور بعض سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بتایا کہ سکیورٹی سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران چوری کے مقدمات میں 83 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔کمیٹی نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ بارہا چوری کے باوجود کسی ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔اجلاس کے دوران پاکستان سٹیل ملز کو درپیش مجموعی مسائل سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ بھی منظور کر لی گئی جبکہ چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ملازمین کو درپیش انتظامی و آپریشنل مسائل کا تفصیلی جائزہ لینے کےلئے نئی ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی، جو اپنی رپورٹ مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔








