اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر خالدہ عطیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز میں جاری چوری کے واقعات سے متعلق درج تمام ایف آئی آرز کا جائزہ لینے اور ان پر تفصیلی بحث کی ہدایت کی۔کمیٹی نے چوری ہونے …
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس، پاکستان سٹیل ملز کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر خالدہ عطیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز میں جاری چوری کے واقعات سے متعلق درج تمام ایف آئی آرز کا جائزہ لینے اور ان پر تفصیلی بحث کی ہدایت کی۔کمیٹی نے چوری ہونے والے قیمتی مواد، بشمول تاروں اور دیگر اجزاء کے تخمینی مالی نقصان کی تحقیقات کا بھی حکم دیا۔کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ 10 ارب روپے مالیت کے مواد کی چوری کے باوجود اب تک صرف ایک ملازم کو معطل کیا گیا ہے جو احتسابی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ یہ چوری کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ ایک مربوط نیٹ ورک کی کارروائی ہے۔
ہمیں ہر اس شخص کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس میں ملوث ہے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔سی ای او پاکستان سٹیل ملز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجرمانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ محکماتی تحقیقات بھی جاری ہیں اور قصوروار ثابت ہونے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔سی ای او نے مزید کہا کہ بجلی اور پانی کی قلت جیسے دیرینہ مسائل سٹیل ملز کے علاقے میں پیداوار میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مشکلات کے باوجود ادارہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں خود اپنے ذرائع سے ادا کر رہا ہے۔مزید بتایا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز کے پاس وسیع رقبے پر محیط زمین موجود ہے جس کا بیشتر حصہ صنعتی نوعیت کا ہے۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ زمین پر قبضے سے متعلق ایف آئی آر میں متاثرہ رقبے کی درست تفصیلات شامل نہیں کی گئیں جو قانونی وضاحت اور مسئلے کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سٹیل ملز کے حقیقی حالات و حقائق جاننے کے لیے واضح ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) طے کیے جائیں تاکہ موثر تحقیقات کی جا سکیں۔اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کی انتظامیہ و امور پر سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای) ایکٹ کے اثرات پر بھی غور کیا گیا۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مزدور یونینز اور رجسٹرڈ ورکرز یونینز کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ محنت کشوں کے مسائل کا براہ راست جائزہ لیا جا سکے۔ اسی طرح واٹر اینڈ سیوریج کمپنی کے حکام کو بھی پانی کی فراہمی سے متعلق دیرینہ مسائل پر بریفنگ کے لیے بلایا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن اور سینیٹر حسنیٰ بانو نے بھی شرکت کی۔







