سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ، شہریوں کو سفری مشکلات سے بچانے اور گندم کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے پر زور
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ، شہریوں کو سفری مشکلات سے بچانے اور گندم کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ، بین الصوبائی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے، گندم کی بلا تعطل ترسیل اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں سینیٹرز ایمل ولی خان، روبینہ قائم خانی، سید کاظم علی شاہ، روبینہ خالد، ضمیر حسین گھمرو، سیف اللہ ابڑو اور ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے اہم صوبائی نمائندوں بالخصوص متعلقہ وزیر یا وزیراعظم کے مشیر کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا بنیادی مقصد علاقائی شکایات کا ازالہ اور صوبوں کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ حکام کی مسلسل غیر حاضری عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہے جس پر استحقاق کی تحریک یا عدالتی نوٹس کا معاملہ بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ کمیٹی نے بین الصوبائی سفر، سرحدی چیک پوسٹوں پر سکیورٹی انتظامات اور مسافروں کے ڈومیسائل و شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر آر پی او راولپنڈی، اے آئی جی سندھ، اے آئی جی خیبر پختونخوا، آئی جی گلگت بلتستان اور اے آئی جی بلوچستان سمیت پولیس حکام نے بریفنگ دی۔
آر پی او راولپنڈی نے بتایا کہ صوبے میں 31 بین الصوبائی چیک پوسٹیں فعال ہیں جبکہ 15 اہم سکیورٹی مقامات پر اہلکار تعینات ہیں۔ جنوری سے اب تک صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں تاہم روزانہ موصول ہونے والے سکیورٹی الرٹس کے باعث تمام چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ ضروری ہے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ شہری سکیورٹی تقاضوں کو سمجھتے ہیں تاہم چیک پوسٹوں پر پولیس اہلکاروں کے رویے اور طرز عمل میں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے پولیس کو درپیش اضافی کام، تھکاوٹ اور وسائل کی کمی کو بھی کارکردگی متاثر ہونے کی وجوہات قرار دیا۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں تفاوت کی نشاندہی کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں تلاشی کے دوران خواتین کی رازداری، پردے اور برقعہ کے احترام کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
کمیٹی نے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی کہ شہریوں کے حقوق اور مقامی روایات کا احترام کرتے ہوئے باہمی تعاون سے مسائل حل کئے جائیں۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں کیپیٹل سٹی پولیس افسر کی کارکردگی سے متعلق عوامی تشویش کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیس فورس قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض انجام دے۔ سندھ پولیس حکام نے واضح کیا کہ کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف امتیازی پالیسی موجود نہیں اور سمگلنگ کی روک تھام و سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے تمام سرحدی چیک پوسٹوں پر یکساں ضابطہ کار اپنایا جاتا ہے۔
کمیٹی نے کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں ایک صوبے سے دوسرے صوبے جانے والے شہریوں کو شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور افغان شہریوں سے متعلق جانچ پڑتال کے نام پر غیر ضروری ہراساں کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بعض شناختی کارڈ نادرا کی جانب سے مشکوک قرار دیے گئے ہیں، جن کے مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ضلعی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔ گندم کی ترسیل اور غذائی تحفظ ، اجلاس میں بین الصوبائی گندم کی نقل و حرکت، سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کھڑے کیے جانے کے باعث ترسیل میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ خوراک خیبر پختونخوا کے حکام نے گندم کے ذخائر اور خریداری پالیسی سے متعلق بریفنگ دی۔
چیئرمین کمیٹی نے شفاف طریقہ کار وضع کرنے اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام سے جامع تحریری تفصیلات طلب کر لیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اجلاس میں ڈی آئی جی راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک کو طلب کیے جانے کے بعد آٹے کی ترسیل سے متعلق معاملات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلیوں میں دئیے گئے بعض متعصبانہ بیانات اور ویڈیو کلپس پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ارکان نے کہا کہ ایسے بیانات صوبوں کے درمیان نفرت کو فروغ دیتے ہیں اور ان کی روک تھام سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بین الصوبائی ہم آہنگی کا فروغ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام وفاقی اکائیوں کو ہدایت کی کہ شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک، سفری سہولتوں اور ادارہ جاتی رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے قریبی تعاون یقینی بنایا جائے۔







