سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا قومی ورثہ کے تحفظ کے موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ، نیشنل میوزیم منصوبے کیلئے اراضی منتقلی کا معاملہ پر غور
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا قومی ورثہ کے تحفظ کے موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ، نیشنل میوزیم منصوبے کیلئے اراضی منتقلی کا معاملہ پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کے اجلاس میں ملک میں قومی ورثہ کے مقامات کے تحفظ و نگہداشت سے متعلق موجودہ قوانین اور قانونی فریم ورک کے حوالے سے سوال پر مزید غور کیا گیا جبکہ کمیٹی کو شکرپڑیاں میں نیشنل میوزیم آف پاکستان کی تعمیر کے منصوبہ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سینیٹ سیکرٹریٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو یہاں پارلیمنٹ لاجز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور سینیٹر روبینہ خالد نے شرکت کی جبکہ سینیٹر شہادت اعوان ایجنڈا آئٹم کے محرک کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹیوں کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اجلاسوں میں سینئر افسران کی شرکت یقینی بنائی جائے۔کمیٹی کو ملک بھر میں تاریخی و ثقافتی ورثہ کے مقامات کے تحفظ اور نگہداشت کیلئے موجودہ قانونی فریم ورک کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ایجنڈا آئٹم کے محرک سینیٹر شہادت اعوان نے رانی کوٹ قلعہ سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقام یونیسکو کی عارضی فہرست (Tentative List) میں شامل ہے، اس پر خاطر خواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی اداروں نے گریٹ وال آف سندھ جسے عام طور پر ’’وال آف ایشیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کے تحفظ میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاہم وزارت قومی ورثہ و ثقافت اور حکومت سندھ کے درمیان موثر رابطہ کاری ہونی چاہیے ۔
سیکرٹری وزارت قومی ورثہ و ثقافت نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے وہ مقامات جو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہیں، وفاقی حکومت کی سفارشات کی روشنی میں نامزد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت نے نامزدگی کے ڈوزیئرز تیار کرنے کے حوالے سے اپنے افسران کی تربیت کی ہے اور یونیسکو سے درخواست کی ہے کہ پاکستان سے سالانہ ایک سے زائد ڈوزیئرز پر غور کیا جائے، حالانکہ موجودہ ضابطے کے تحت فی ملک سالانہ ایک ڈوزیئر پر غور کیا جاتا ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ وزارت نے حال ہی میں غیر مادی ثقافتی ورثہ اور ثقافتی ورثہ سے متعلق ڈوزیئرز یونیسکو کو بھجوائے اور روایتی مٹی سے بنائے جانے والے موسیقی کے آلے ’’بورینڈو‘‘ کو یونیسکو کی فہرست میں شامل کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ وزارت نے بتایا کہ آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے نوادرات ایکٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ اور تعاون جاری ہے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وزارت بھنبھور کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کیلئے بھی کام کر رہی ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ رواں سال لوک ورثہ میلے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تمام رکن ممالک کے وزرائے ثقافت کو مدعو کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاہور کو ایس سی او کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ خان نے تجویز پیش کی کہ مجوزہ ثقافتی میلے میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ورثہ اور ثقافت علاقائی حدود سے بالاتر ہو کر پاکستانی عوام کو ایک دوسرے سے جوڑتے، ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے وزارت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے گزشتہ چھ ماہ کے دوران صوبائی حکام کے ساتھ ہونے والے رابطہ اجلاسوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزارت کو قومی ورثہ کے مقامات کے تحفظ و نگہداشت پر صوبہ وار ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے محفوظ تاریخی ورثہ کے مقامات کے اطراف تجاوزات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو مقررہ 200 فٹ بفر زون کے مطابق موثر تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے امریکہ سے واپس لائے گئے 523 قیمتی نوادرات کے حوالے سے بھی رپورٹ طلب کر لی۔ شکرپڑیاں میں نیشنل میوزیم آف پاکستان کی تعمیر کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے اور وزارت قومی ورثہ و ثقافت کو اراضی کی منتقلی کا زیر التواء معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے وزارت کیلئے بجٹ میں اضافے کی سفارش کرتے ہوئے قومی ورثہ، ثقافتی اور آثار قدیمہ کے سیاحت کے فروغ کے ذریعے خود کفالت کے جدید اور اختراعی ماڈلز تلاش کرنے کی تجویز بھی دی۔
کمیٹی نے مزار قائد کراچی کے انتظامی امور اور تزئین و آرائش سے متعلق اپنی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ بھی منظور کر لی۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے ریڈیو پاکستان کراچی کی عمارت کو ثقافتی و قومی ورثہ میوزیم میں تبدیل کرنے کی تجویز دی۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کے قومی ورثہ کا تحفظ اور نگہداشت ناگزیر ہے کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ، شناخت اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔








