سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس، حج 2024 کے پرائیویٹ سکیم کے معاملات، اوورسیز حاجیوں کے مسائل اور کربلا کے زائرین کی روانگی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو بتایا گیا ہے کہ آئندہ سال حج پیکج ساڑھے گیارہ لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ کے درمیان ہونے کا امکان ہے جبکہ کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ ڈی جی حج مکہ کی مدت دو سال ہونی چاہئے اور وہ عربی زبان و سعودی نظام سے واقف ہونا چاہئے۔ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی …

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو بتایا گیا ہے کہ آئندہ سال حج پیکج ساڑھے گیارہ لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ کے درمیان ہونے کا امکان ہے جبکہ کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ ڈی جی حج مکہ کی مدت دو سال ہونی چاہئے اور وہ عربی زبان و سعودی نظام سے واقف ہونا چاہئے۔

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عطا الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا ،جس میں حج 2024 کے پرائیویٹ سکیم کے معاملات، اوورسیز حاجیوں کے مسائل اور کربلا کے زائرین کی روانگی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔اجلاس میں سینیٹر عون عباس نے پرائیویٹ حج سکیم پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اوورسیز حاجیوں کو آخری وقت تک واضح معلومات نہیں دی گئیں جبکہ 63 ہزار حاجیوں کے ریفنڈ کے بارے میں وزارت کی جانب سے اب تک کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

سینیٹر عون عباس نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور اور ہوپ کے درمیان رابطے کا فقدان سعودی سسٹم کو فالو نہ کیے جانے کا سبب بنا اور زون ون اور ٹو کے پیچیدہ نظام کے باعث پرائیویٹ سکیم کے ساتھ جانبدارانہ سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی حج کو تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اجلاس میں پروکیورمنٹ کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، خاص طور پر الراجی کمپنی کو سو فیصد نمبر دیئے جانے پر تحفظات ظاہر کیے گئے۔ سینیٹر عون عباس نے مطالبہ کیا کہ ڈی جی حج کو فوری طور پر واپس بلا کر نئے افسر کو تعینات کیا جائے جس کی مدت دو سال ہو اور وہ عربی زبان و سعودی نظام سے واقف ہو۔مزید کہا گیا کہ الراجی کمپنی کو دیئے گئے ٹھیکے کے تکنیکی پہلوئوں کی تحقیقات آڈیٹر جنرل سے کروائی جائیں اور موجودہ پروکیورمنٹ کمیٹی کو تحلیل کر کے نئی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

اجلاس میں چہلمِ کے لیے کربلا جانے والے زائرین پر عائد پابندیوں پر بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ زائرین کے مذہبی حقوق کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور عبادات کے معاملات وزارت مذہبی امور کی حدود میں آتے ہیں، داخلہ کمیٹی اس میں مداخلت نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ایران، عراق اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کی سطح پر اتفاق ہو چکا ہے کہ زائرین کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر پابندی برقرار رہی تو کم از کم 50 ارب روپے کا عوامی نقصان ہو گا جبکہ متبادل راستے اختیار کرنے پر 48 ارب روپے اضافی اخراجات اٹھانے پڑیں گے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے آگاہ کیا کہ سی روٹ سمیت دیگر متبادل ذرائع پر مشاورت ہو رہی ہے

اور افغانستان کے راستے سکیورٹی خطرات کے باعث تحفظات موجود ہیں تاہم کوشش ہے کہ زائرین کو ہرممکن سہولیات دی جائیں۔سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے شکوہ کیا کہ حکومت نے انہیں ٹور آپریٹرز پالیسی پر اعتماد میں نہیں لیا جس پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے یقین دہانی کروائی کہ مشاورت کی جائے گی اور تمام تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔