سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرہ چوہدری کی اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل سے ملاقات

اسلام آباد/بیلم۔19نومبر (اے پی پی):کانفرنس آف دی پارٹیز تیس کے حوالے سے پاکستان کے سربراہ وفد سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ حمیرہ چوہدری اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل کے درمیان اعلیٰ سطح پر دوطرفہ ملاقات ہوئی۔دونوں فریقوں نے کانفرنس میں زیر بحث اہم موضوعات اور پاکستان کی جاری موسمیاتی کوششوں اور عالمی عمل سے توقعات پر تبادلہ خیال کیا۔ …

اسلام آباد/بیلم۔19نومبر (اے پی پی):کانفرنس آف دی پارٹیز تیس کے حوالے سے پاکستان کے سربراہ وفد سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ حمیرہ چوہدری اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل کے درمیان اعلیٰ سطح پر دوطرفہ ملاقات ہوئی۔دونوں فریقوں نے کانفرنس میں زیر بحث اہم موضوعات اور پاکستان کی جاری موسمیاتی کوششوں اور عالمی عمل سے توقعات پر تبادلہ خیال کیا۔

بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عائشہ حمیرہ چوہدری نے اقوام متحدہ کی قیادت کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ستمبر 2025ء میں اپنی تیسری قومی طور پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) جمع کروا دی ہےجو سن 2035ء تک اخراج میں کمی اور کم کاربن ترقی کے ایک بہتر راستے کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ملکی ذرائع سے اپنی کمی کے ہدف میں اضافہ کرتے ہوئے 15 فیصد سے 17فیصد تک لے جایا ہے، جو عالمی موسمیاتی اہداف کے لیے اس کے مضبوط عزم کا مظہر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے لئے اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف حاصل کرنا بین الاقوامی موسمیاتی مالیاتی مدد پر منحصر ہے جس کی ضرورت سن 2035ء تک 565 ارب ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ وعدے تاحال مطلوبہ سطح پر پورے نہیں ہو سکےجس سے عالمی سطح پر پیرس معاہدے کے درجہ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سے نیچے رکھنے کے ہدف میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

عائشہ حمیرہ چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنی رپورٹس اور ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، مگر دوسری جانب اس سطح کی پیشرفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی تعاون کو موسمیاتی اقدامات کے بنیادی ستون قرار دیا سائمن سٹیئل نے پاکستان کی بروقت جمع کرائی گئی رپورٹس کو سراہا اور کانفرنس سے پاکستان کی امیدوں کے بارے میں دریافت کیا۔ عائشہ حمیرہ چوہدری نے زور دیا کہ موافقت کو اخراج میں کمی کے برابر اہمیت دی جائے، کیونکہ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک واضح عالمی ہدف برائے موافقت چاہتا ہے، اور اگرچہ موافقت کی مالی معاونت کو تین گنا بڑھایا بھی جائے تو موجودہ کم بنیاد کے پیش نظر یہ ناکافی رہے گی۔

انہوں نے اضافی گرانٹ کی بنیاد پر معاونت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے مالیاتی نظام کو رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق زیادہ موثر ہونا چاہئے اور نقصان و تلافی کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل یقینی بنایا جائے۔عائشہ حمیرہ چوہدری نے پاکستان کے منفرد اور حساس پہاڑی ماحولیاتی نظام جس میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ سلسلے شامل ہیں، کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ پاکستان نے گلیشیئر پگھلائو اور کرائی اوسفیر سے متعلق عالمی آگاہی بڑھانے کے لیے کانفرنس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے مسٹر سٹیئل کو سرحدی خطوں میں برفانی ذخائر کے تحفظ کے لیے پاکستان کی نئی علاقائی شراکت داری سے بھی آگاہ کیا۔

سیکریٹری نے کہا کہ سن 2025ء کے تباہ کن سیلاب اور بار بار آنے والے گلوف واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو کس پیمانے کی موسمیاتی آفتوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قیادت کو آئندہ سال پاکستان میں منعقد کیے جانے والے علاقائی سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔آخر میں سٹیئل کو پاکستان کے ملک پلیٹ فارم اور عالمی اتحاد برائے این ڈی سی کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔