اسلام آباد۔18 اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شجر کاری کی قومی سطح کی مہم میں اگست تا اکتوبر 3 ماہ کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں 41 ملین نئے پودے لگائے جائیں گے،حکومت پاکستان اپنے گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات کے تناسب اور زمین کی زرخیزی میں اضافے کے لیے تمام دستیاب ذرائع اور مہیا قدرتی حل کو بروئے کار لاتے …
شجر کاری مہم میں پاکستان کے طول و عرض میں 41 ملین نئے پودے لگائے جائیں گے،وزیراعظم محمد شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔18 اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ شجر کاری کی قومی سطح کی مہم میں اگست تا اکتوبر 3 ماہ کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں 41 ملین نئے پودے لگائے جائیں گے،حکومت پاکستان اپنے گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات کے تناسب اور زمین کی زرخیزی میں اضافے کے لیے تمام دستیاب ذرائع اور مہیا قدرتی حل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مہم کے لیے پر عزم ہے،آئیےشجر کاری کی اس قومی مہم میں متحد ہو کر منظم طریقے سے اس کو کامیاب بنائیں تاکہ سرسبز،صحت مند، صاف ستھرا اور خوشحال پاکستان ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مقدر بن سکے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق سالانہ مون سون شجرکاری مہم کے آغاز پر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مون سون شجرکاری مہم کے آغاز پر میں اپنے تمام عزیز اہل وطن سے اس اہم قومی، ماحولیاتی و موسمیاتی فریضہ کی ادائیگی کی احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی گزارش کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آئیے وفاقی و صوبائی حکومتیں، سماجی و مذہبی رہنما اور تمام طبقات و شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے شہری اس عزم کی تجدید کریں کیونکہ شجرکاری مہم محض علامتی کارروائی نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لئے صحت مند، قدرتی ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تغیر سے ہونے والی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے قومی فریضہ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مون سون شجرکاری مہم کو اس سال مختلف عنوانات کے تحت منا رہی ہے تاکہ شجرکاری کی اہمیت اور مختلف طبقات میں اس کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے،ان میں شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی کارروائیوں میں خواتین،نوجوانوں،مختلف اداروں کی شمولیت کے ساتھ ساتھ بچاؤ کی مہمات میں ہمارے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا شامل ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی زندگی پر مثبت اثرات کے ساتھ شجرکاری ہمارے پیارے وطن کے بیش بہا قیمتی قدرتی وسائل، حیوانات ونباتات کے تحفظ اور افزائش میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے بچاؤ کے لیے شجرکاری کے تناسب میں اضافہ انتہائی ضروری ہے،
پاکستان اقوام عالم میں موسمیاتی تبدیلی سے بدترین متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے،حالیہ مون سون سیزن کی غیر معمولی بارشیں اور آبی ریلوں سے ہونے والی تباہی اور جانی و مالی نقصان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کی تدبیر ناگزیر ہے،پاکستان میں جنگلات کا تناسب پانچ فیصد ہے جو کسی بھی ملک کی ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام شہری اور طبقات کی طرف سے مشترکہ اور متحد کوششوں سے جنگلات کے تناسب میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہےاور پاکستان ماحولیاتی چیلنجز اور مشکلات سے نبرد آزما ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شجر کاری کی اس قومی سطح کی مہم میں اگلے تین ماہ اگست تا اکتوبر کے دوران پاکستان کے طول و عرض میں 41 ملین نئے پودے لگائے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات کے تناسب اور زمین کی زرخیزی میں اضافے کے لیے تمام دستیاب ذرائع اور مہیا قدرتی حل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مہم کے لیے پر عزم ہے۔وزیر اعظم نے دعوت دی کہ آئیےشجر کاری کی اس قومی مہم میں متحد ہو کر منظم طریقے سے اس کو کامیاب بنائیں تاکہ سرسبز صحت مند، صاف ستھرا اور خوشحال پاکستان ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مقدر بن سکے۔








