شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے مون سون صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔این آئی ایچ کے مطابق مون سون بارشیں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی وباؤں کا سبب بن سکتی ہیں۔ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا باعث بنتا ہے جس سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ آلودہ پانی ہیضہ اور دیگر آنتوں کے امراض کو پھیلا سکتا ہے۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے، اور ڈوبنے کے واقعات میں بھی اضافہ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی، دیواروں اور چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

سیلابی پانی کے باعث لیپٹوسپائروسس سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کے پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔این آئی ایچ نے صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات، آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی سنیک وینم کے وافر ذخائر یقینی بنائے جائیں۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مچھر افزائش کے خاتمے کے لئے سپرے مہمات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے دور رہیں، بچوں کو نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی میں جانے سے روکیں، اور کمزور دیواروں، پرانی عمارتوں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے گریز کریں۔این آئی ایچ کے حکام نے کہا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری رپورٹنگ، اور قومی سطح پر نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ وبائی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

مزید خبریں