اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم کو اعتماد، مساوات اور خوشحالی کا مشترکہ وژن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قلیل عرصے میں ایس سی او دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم اور ایک مضبوط تناور درخت بن چکا ہے جو امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لئے کوشاں ہے،ایس سی او کے جغرافیائی تسلسل نے ہمیں تاریخی موقع دیا ہے کہ ہم معاشی روابط کے لیے مل کر کام کریں، ہمیں غربت،ماحولیاتی تبدیلیوں اور عدم مساوات کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں ہمارے مثالی تعلقات سے دیگر ممالک رشک کرتے ہیں،سی پیک ہماری دوستی کا مظہر اور پاکستان کی معاشی ترقی کی علامت بن گیا ہے۔
پاکستان چین کے وژن کی بھرپور تائید کرتا ہے کہ ایس سی او کے پرچم تلے ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کو فروغ دیا جائے، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر چائنہ ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صدر مملکت نےچین کے اپنے گزشتہ کئی عشروں پر محیط دوروں کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ہمیشہ چین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ مجھے اور میرے خاندان کو جو محبت اور مہمان نوازی دی گئی، اور پاکستانی عوام کو ہر موقع پر جو مضبوط اور ثابت قدم حمایت فراہم کی گئی، وہ یادیں میرے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے نقش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں چینی صدر شی جن پنگ کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کی میزبانی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، جو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجلاس ہے اور جس کی میزبانی خوبصورت شہر تیانجن کر رہا ہے۔ مارچ 2012 میں میرا اس پُررونق شہر میں مختصر قیام ہوا تھا جو اب حیرت انگیز حد تک ترقی کر چکا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ میں چین کے لیے صدر شی کی قیادت میں ایس سی او اجلاس کے بنیادی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ صدر شی کا وژن "انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی” بالکل وہی ہے جو اس تنظیم نے دہائیوں میں اپنے لیے طے کیا ہے، پاکستان کے لیے یہ اعزاز تھا کہ اس نے گزشتہ برس اکتوبر میں رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی 23ویں کونسل کی میزبانی کی۔انہوں نے کہاکہ ایس سی او جب شروع ہوا تو یہ ایک ننھا پودا تھا مگر آج یہ ایک مضبوط اور تناور درخت بن چکا ہے جو ممالک کو یکجا کر کے خطوں میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہے اور یہ مقاصد تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب رکن ممالک اجتماعی طور پر دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی جیسے تین بڑے خطرات پر قابو پائیں، ورنہ یہ دنیا کو انارکی میں دھکیل سکتے ہیں۔ قلیل عرصے میں ایس سی او دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے، جو یوریشیا کے 80 فیصد رقبے اور دنیا کی 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔
یہ تنظیم جامع اور مسلسل وسعت پذیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے جغرافیائی تسلسل نے ہمیں تاریخی موقع دیا ہے کہ ہم معاشی روابط کے لیے مل کر کام کریں، غربت، ماحولیاتی تبدیلی اور بائیو ڈگریڈیشن جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا کریں۔ ہمیں غربت اور عدم مساوات کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ تبھی ہم حقیقی انسانی تحفظ کو ایک منصفانہ عالمی نظام میں یقینی بنا سکیں گے۔ گزشتہ برسوں میں ایس سی او کی کارکردگی، خاص طور پر دہشت گردی کے خاتمے، سرحد پار جرائم بالخصوص منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے میں متاثرکن رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تیانجن اجلاس ہمیں اگلی دہائی کے لیے ہمہ جہت ترقی کا روڈمیپ طے کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، اس اجلاس کے اہم کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم حقیقی کثیرالجہتی کو فروغ دیں، جو محض امن و سلامتی تک محدود نہ ہو بلکہ معیشت، مالیات، تجارت اور ٹیکنالوجی میں بھی تعلقات کو بڑھائے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم عالمی اداروں کو مضبوط بنائیں۔ اس سے عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھنے اور استحکام لانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ 2024 میں چین کی ایس سی او ممالک کے ساتھ تجارت بڑھ کر نصف کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جو اس تنظیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہم چین کے عروج اور اس کی علاقائی و عالمی قیادت پر فخر کرتے ہیں اور دونوں ممالک کا تعلق ایک ایسی داستان ہے جس پر دوسری قومیں رشک کرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس تعلق میں گہرائی بھی ہے اور پائیداری بھی ہے اور ہمارا تزویراتی تعاون دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم ایک دوسرے کے بنیادی مسائل اور اصولوں خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی پر ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عالمی فورمز پر ہم دونوں ممالک قریبی تعاون کرتے ہیں اور چین نے ہمیشہ پاکستان کا بالخصوص ہماری تاریخ کے مشکل ترین لمحات میں ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرا چین کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، میرے سسر، وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو، چین کے بانی رہنماؤں چیئرمین ماو زے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی کے ساتھ مل کر پاکستان چین دوستی کے معمار تھے، میری اہلیہ، وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو، نے اس رشتے کو مزید گہرا کیا اور مجھے اپنی درجن بھر سے زیادہ چین کی مسافتوں کے دوران چینی قیادت بالخصوص صدر شی کے ساتھ قریبی کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جس کا نتیجہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تصور اور آغاز کی صورت میں سامنے آیا۔ آج سی پیک ہماری دوستی کا مظہر اور پاکستان کی معیشت کی ترقی کی علامت بن چکا ہے۔
صدر مملکت نے کہاکہ اس برس فروری میں میرا چین کا دورہ میرے اس یقین کو مزید پختہ کر گیا کہ اگرچہ ہم نے مل کر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ہمیں ابھی اور بڑے کردار ادا کرنے ہیں تاکہ اپنے تعلقات کو دفاع، سائبر سکیورٹی، نئی ٹیکنالوجیز اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مزید مضبوط کریں اور اپنے خطے کو تجارت اور مشترکہ خوشحالی کا گہوارہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب دنیا جان چکی ہے کہ ایس سی او کوئی فوجی اتحاد نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی تنظیم ہے جو انسانیت کی خدمت کے لیے معاشی تعاون اور اقوام کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان چین کے وژن کی بھرپور تائید کرتا ہے کہ ایس سی او کے پرچم تلے ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کو فروغ دیا جائے، جو یوریشیا اور تمام اقوام کے لیے باہمی اعتماد، خودمختار برابری اور مشترکہ ترقی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔