شوہر کی بدسلو کی ثابت نہ ہو تو بھی سنگین ازدواجی اختلاف کی صورت میں نکاح ختم کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی جانب سے خلع کا انتخاب نہ کرنے کے باوجود عدالت اس کی طرف سے دائر کردہ تنسیخ نکاح کے دعوے کو ازخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی تاہم اگر ازدواجی تعلق شدید اور مسلسل اختلاف کا شکار ہو جائے، صلح کی تمام کوششیں ناکام ہوں اور میاں بیوی کے ساتھ رہنے کے بنیادی مقاصد پورے نہ ہو رہے ہوں تو …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیوی کی جانب سے خلع کا انتخاب نہ کرنے کے باوجود عدالت اس کی طرف سے دائر کردہ تنسیخ نکاح کے دعوے کو ازخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی تاہم اگر ازدواجی تعلق شدید اور مسلسل اختلاف کا شکار ہو جائے، صلح کی تمام کوششیں ناکام ہوں اور میاں بیوی کے ساتھ رہنے کے بنیادی مقاصد پورے نہ ہو رہے ہوں تو ’’شقاق‘‘ مسلم قانون کے تحت نکاح ختم کرنے کی قابل قبول بنیاد بن سکتا ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے زینب بی بی اور ارم ناز بیگم کی جانب سے دائر دو الگ الگ مقدمات کی سماعت کے دوران تفصیلی حکم جاری کیا۔عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ خلع اور مسلم شادیوں کی تنسیخ کے قانون 1939 کے تحت نکاح کی تنسیخ دو مختلف قانونی راستے ہیں، بیوی اگر ظلم و زیادتی کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کا دعویٰ دائر کرے اور خلع کا انتخاب نہ کرے تو عدالت اس کے واضح اور رضاکارانہ انتخاب کے بغیر اس کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی، خصوصاً جب اس تبدیلی کے نتیجے میں حق مہر کے قانونی حق پر اثر پڑتا ہو۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدالت بیوی کی جانب سے خلع کا انتخاب خود سے نہیں کر سکتی۔ بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قانونی دعوے پر قائم رہے یا اپنی مرضی سے خلع اختیار کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ دونوں مقدمات میں فیملی کورٹس نے ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے کے باوجود، صلح کی کوششیں ناکام ہونے پر نکاح خلع کی بنیاد پر ختم کر دیئے حالانکہ بیویوں نے خلع کا مطالبہ یا انتخاب نہیں کیا تھا، ایسا کرنا قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حق مہر کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ اگر نکاح خلع کی بنیاد پر ختم کیا جائے تو بیوی سے مہر واپس لینے کے مختلف مالی نتائج مرتب ہوتے ہیں جبکہ مسلم شادیوں کی تنسیخ کے قانون 1939 کے تحت نکاح ختم ہونے کی صورت میں قانون بیوی کے حق مہر کو محفوظ رکھتا ہے۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئینی اختیار نگرانی کا ہے، اپیل کا نہیں۔ ہائیکورٹ شواہد کا دوبارہ جائزہ لے کر اپیل کی عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتی تاہم قانون کی خلاف ورزی، اختیار سے تجاوز، شواہد کے بغیر فیصلہ یا اہم شواہد کو نظر انداز کرنے کی صورت میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف شواہد کی بنیاد پر مختلف رائے ممکن ہونے یا شواہد کے وزن سے اختلاف کو آئینی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ مسلم شادیوں کی تنسیخ کے قانون 1939 کی دفعہ 2 کی شق 9 دیگر ایسے اسباب کو بھی تسلیم کرتی ہے جنہیں مسلم قانون کے تحت نکاح ختم کرنے کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے۔ ’’شقاق‘‘ بھی ایسے ہی حالات میں نکاح ختم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ شقاق سے مراد میاں بیوی کے درمیان سنگین، مسلسل اور گہرا اختلاف یا ایسا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ازدواجی تعلق ہے جس میں نکاح کے بنیادی مقاصد پورے ہونا ممکن نہ رہیں اور صلح کی سنجیدہ کوششیں ناکام ہو جائیں۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہر جھگڑا، اختلاف، وقتی علیحدگی یا عدم موافقت شقاق کے زمرے میں نہیں آتی۔ عدالت کو مطمئن ہونا ہوگا کہ ازدواجی تعلق میں حقیقی، سنگین اور مسلسل ٹوٹ پھوٹ موجود ہے، نکاح اپنے بنیادی مقاصد پورے کرنے کے قابل نہیں رہا اور صلح کی بامعنی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ شقاق اور ظلم و زیادتی میں بھی بنیادی فرق ہے۔ ظلم و زیادتی کسی ایک فریق کی جانب سے مخصوص قانونی خلاف ورزی پر مبنی ہوتی ہے جبکہ شقاق ازدواجی تعلق کی مجموعی اور مسلسل کیفیت سے متعلق ہے، اس لئے کسی خاص قانونی بنیاد پر ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے کے باوجود ازدواجی تعلق شقاق کی ایسی کیفیت اختیار کر سکتا ہے جس میں نکاح ختم کرنا جائز ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شقاق کو نکاح کی تنسیخ کے لئے بنیاد تسلیم کرنا ’’ناقابل واپسی ٹوٹ پھوٹ‘‘ کے نام سے کسی عمومی اصول کی عدالتی تشکیل نہیں ہے۔ فیملی عدالتیں ہر ناخوشگوار ازدواجی زندگی کو شقاق قرار دے کر نکاح ختم نہیں کر سکتیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 4 قانون کے مطابق سلوک، آرٹیکل 14 انسانی وقار اور آرٹیکل 25 قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے۔

ازدواجی تنازعہ عدالت میں پہنچنے کے بعد بھی دونوں فریقوں کے وقار اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی کو اس کی مرضی کے بغیر خلع پر مجبور کرکے حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح شوہر کو بھی مناسب شواہد کے بغیر ظلم یا ازدواجی بدسلوکی کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کا مقصد فریقین کے حقوق کا تعین کرنا ہے، انسانی تنازعہ کو مزید بڑھانا نہیں۔ اگر کسی مخصوص ازدواجی غلطی کے الزامات مطلوبہ قانونی معیار پر ثابت نہ ہوں تو عدالت کو انہیں ثابت شدہ قرار دینے سے گریز کرنا چاہیے، تاہم اگر ازدواجی تعلق سنگین اور مسلسل شقاق کا شکار ہو چکا ہو تو صرف کسی مخصوص ازدواجی غلطی کے ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر فریقین کو غیر معینہ مدت تک نکاح میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔

سپریم کورٹ نے خلع اور شقاق میں بنیادی فرق واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ خلع بیوی کے رضاکارانہ انتخاب سے حاصل ہونے والی ازدواجی رہائی ہے جبکہ میاں بیوی کے درمیان معروضی طور پر ثابت ہونے والی سنگین اور مسلسل ازدواجی ٹوٹ پھوٹ کی کیفیت ہے اور اس کے لیے بیوی کی جانب سے حق مہر یا کسی مالی فائدے سے دستبرداری ضروری نہیں۔