لاڑکانہ ۔23دسمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزیر امتیاز احمد شیخ، صوبائی مشیر اعجاز جاکھرانی، مرتضیٰ وہاب، جمیل احمد سومرو اور ایم این اے خورشید احمد جونیجو کے ہمراہ سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، شہید میر مرتضیٰ بھٹو، شہید شاہنواز بھٹو، مرحومہ بیگم نصرت بھٹو اور مرحومہ امیر بیگم کے مزاروں پر حاضری دی ،فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم 27 دسمبر 2022 کو مرحومہ بے نظیر بھٹو کی 15ویں برسی کے انتظامات کا جائزہ لینے آئے ہیں، ایک عظیم الشان جلسے کا انتظام کیا گیا ہے جس میں لاکھوں افراد ملک کے کونے کونے سے شریک ہوں کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اپنا مسئلہ ہے اور اس سے کسی دوسرے صوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس کا حل وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے پاس ہے کیونکہ گورنر نے انہیں اعتماد کے ووٹ کے لیے اپنے 186 ارکان کی اکثریت دکھانے کو کہا ہے اور گورنر کو قانونی طور پر مطمئن کریں ، اگر گورنر کہے اور وہ ووٹ نہ لے تو یہ ایک غیر قانونی عمل ہے، اس لیے گورنر اسے ڈی نوٹیفائی کر سکتے ہیں،لیکن معلوم ہوا کہ چوہدری پرویز الہی عدالت میں جا رہے ہیں،انہیں عدالت جانے کی ضرورت نہیں ہے، بس اسمبلی کا اجلاس بلا کر ووٹ لینے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کافی عرصے سے اسمبلی تحلیل کرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ایک بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر خواجہ آصف نے وفاقی وزراء کے ہمراہ کراچی کا دورہ کیا اور انہوں نے تجویز دی کہ دکانیں رات 8 بجے بند کر دی جائیں اور شادی ہال اور ریسٹورنٹ رات 10 بجے بند کر دیے جائیں اور 20 پرسنٹ کام ورک فرام ہوم کیا جائے، ہم نے کہا کہ اس کے لیے ہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے ہمارے فیصلوں کی مخالفت کی لیکن پھر انہوں نے خود ہی ان پر عمل کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ شدید بارشوں اور سیلاب میں سندھ کو بہت نقصان پہنچا اور اس وقت بھی سندھ حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ تھی اور ان کی بھرپور مدد کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گڑھی خدابخش بھٹو میں مزار کمیٹی اور ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ طارق منظور چانڈیو نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی 15ویں برسی کے انتظامات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر کیے گئے ہیں جن میں صفائی، لائٹنگ، واش رومز، سائن بورڈز ، سڑکیں، پارکنگ وغیرہ شامل ہیں۔
اس موقع پر ایس ایس پی لاڑکانہ نے امن و امان، سیکیورٹی اور ٹریفک کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ٹریفک کے نظام کو بھی بہتر کیا گیا ہے تاکہ برسی میں آنے والے لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امن و امان، سکیورٹی ، ٹریفک، صفائی، لائٹنگ، سائن بورڈز، روڈ ویز اور واش رومز، اسٹینڈ بائی جنریٹرز وغیرہ کے خصوصی انتظامات کرنے کی کوشش کی جائے، آنے والے مہمانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑےاور برسی خیر خوبی سے گذر جائے۔
انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ جلسے کے اختتام پر بھی ٹریفک کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ لوگوں کو واپسی کے دوران کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس موقع پر پی پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ برسی کے موقع پر سیکیورٹی، ٹریفک، صفائی، سڑکوں، واش رومز، پارکنگ کے انتظامات کو پہلے سے بہتر کیا جائے تاکہ برسی پر آنے والے لوگوں کو بہتر تکلیف نہ ہو۔
اس موقع پر کمشنر لاڑکانہ ڈویژن گھنور علی لغاری، ڈی آئی جی لاڑکانہ مظہر نواز شیخ، ضلعی اور ڈویژن کے افسران، پیپلز پارٹی کے رہنما اعجاز احمد لغاری،خیر محمد شیخ، وقار بھٹو، کامران اوڈانو اور دیگر بھی موجود تھے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=343023