28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومخصوصی فیچرزصحت سہولت پروگرام نے خیبرپختونخوا جیسے ایک چھوٹے صوبے کو کینیڈا، آسٹریلیا،...

صحت سہولت پروگرام نے خیبرپختونخوا جیسے ایک چھوٹے صوبے کو کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور چند یورپی ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا

- Advertisement -

پشاور۔3جولائی (اے پی پی):صحت سہولت پروگرام نے خیبرپختونخوا جیسے ایک چھوٹے صوبے کو کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور چند یورپی ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ21۔2020کے سات ماہ کے دوران سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت کم سے کم 250,439مریضوں کا مفت علاج کیا گیاجن میں زیادہ تر مریضوں نے اپنے علاج کیلئے نجی ہسپتالوں کو ترجیح دی، لگ بھگ 174,388افراد نجی ہسپتالوں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف76,052مریضوں کا مفت علاج کیا گیا۔ حکومت نے مختلف ہسپتالوں کو 7.2ارب روپے کی رقم ادا کی ہے۔

تفصیلات کئے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو13.056بلین روپے کی ادائیگی کی ہے اور معاہدے کے تحت یہ تنظیم 5.856بلین روپے کی باقی رقم ادا کرے گی۔رواں مالی سال21۔ 2020کیلئے خیبر پختونخوا کے تقریباً7.49ملین خاندانوں کیلئے23بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جگر کی پیوند کاری کے مفت علاج کیلئے کم از کم ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخواکے باقی حصوں کے برابر کرنے کیلئے نئے ضم ہونے والے علاقوں کے لوگوں کی صحت کی کوریج کو10ملین سے بڑھا کر72ملین کردیا گیا ہے۔

- Advertisement -

وزیر اعلی خیبر پختونخوامحمود خان نے صحت کارڈ کو تحریک انصاف کا ایک اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہ صرف لوگوں کو مفت صحت کی سہولیات مہیا کی ہیں بلکہ صوبے میں غربت کو کم کرکے لوگوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواحکومت صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے ، صوبائی حکومت نے صوبے میں محدود پیمانے اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے صحت کارڈ کا پراجیکٹ شروع کیا اور اس سکیم کے فوائد سے موجودہ خیبر پختونخواحکومت نے اس سہولت کو صوبے کی100فیصد آبادی تک بڑھا دیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت میں صحت کارڈ پروگرام کے تحت یکم فروری2016سے30جون2021تک مجموعی طور پر478,973مریضوں کا مفت علاج کیا گیا اور حکومت نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو11807,23ملین روپے کی ادائیگی کی۔ لگ بھگ329,821مریض نجی ہسپتالوں جبکہ 149,152مریض علاج کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں گئے ۔ نجی ہسپتالوں نے8,408ملین روپے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں3,399.03ملین روپے چارج کئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا اپنے تمام شہریوں کیلئے مفت صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے31جنوری 2021کو پہلا صوبہ بن گیا کیونکہ یہاں کی پوری آبادی ملک کے 500سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج معالجے کے قابل تھی۔

صحت کارڈ کی انفرادیت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں قومی شناختی کارڈ پر ملک بھر میں مفت علاج کرا سکتا ہے۔مسابقتی بولی لگانے کے عمل کے بعد سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا انتخاب کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے6نومبر2020کو مالاکنڈ ڈویژن میں ہیلتھ کیئر پروگرام کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ پہلے مرحلے میں چترال ، مالاکنڈ ، سوات ، اپر دیر ، اور لوئر دیر کے پانچ اضلاع کے ہر خاندان کوسالانہ 10لاکھ روپے تک مفت صحت کی سہولیات مہیا گئی تاہم نومبر 2020کے دوسرے مرحلے میں شانگلہ ، کوہستان ، بٹگرام ، مانسہرہ ، تورغر اور ایبٹ آباد کے اضلاع کو صحت کارڈ پروگرام میں شامل کیا گیا۔اسی طرح جنوری 2021کے آخر تک تیسرا مرحلہ میں ہری پور ، بونیر ، صوابی ، مردان ، نوشہرہ ، چارسدہ ، پشاور ، کوہاٹ ، ہنگو ، کرک ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کوصحت سہولت کارڈ پروگرام میں شامل کیا گیا جب صوبے کی پوری آبادی نے مفت صحت کی سہولیات حاصل کیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے فرہادکاکہناہے کہ آج غریبوں کیلئے سرکاری ہسپتالوںمیں نجی ہسپتالوں کے برابروالی سہولیات مل رہی ہے جن کاساراکریڈٹ پاکستان تحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان کوجاتاہے ،خیبرپختونخوا کے مستقل رہائشی ہسپتالوں میں صرف قومی شناختی کارڈ دکھاکرصحت کی مفت سہولیات سے مستفیدہورہے ہیں ۔ ایک شہری فرہاد کاکہناہے کہ میری چھوٹی بہن بیمارتھی جب ہم اسے ہسپتال لے کرگیا توصرف شناختی کارڈ دکھانے پرصحت انصاف کارڈ کے ذریعے ہماراساراعلاج بالکل مفت ہوا۔

ان کاکہناہے کہ میری بہن کودوماہ سے گلے میں دردکی تکلیف تھی جب انہیں ہم ہسپتال لے گئے وہاں پرپورے چیک اپ ہونے کے بعد ڈاکٹرنے بتایاکہ آپ کی بہن کو ٹانسلزہے ان کاآپریشن کرناضروری ہے توہم نے ڈاکٹرسے پوچھاکہ آپ کا آپریشن فیس کتنی ہوگی توانہوں نے بتایاکہ آپ اپنے والدکاشناختی کارڈ دےدیں،تھوڑے دیربعدڈاکٹرنے بتایاکہ آپ کاشناختی کارڈ نمبرکااندراج پہلے سے صحت انصاف کارڈ میں ہوچکاہے جس میں سے10لاکھ روپے کے اخراجات موجودہ خیبرپختونخوا حکومت پوری کریگی اورپی ٹی آئی کی طرف سے ادائیگی ہوگی جس کی وجہ سے میری بہن کے ٹانسلزکاآپریشن بالکل مفت ہوااورہسپتال کی جانب سے ایک ہفتے کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی وزیراعظم عمران خان کوکامیاب کرے کیونکہ ان ہی کی بدولت ہماراخاندان کسی غیراوردوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچ گیا۔کرک سے تعلق رکھنے والے عمرخطاب کاکہناہے کہ جنوری 2021 کے دوران راولپنڈی میں مجھے دل کی تکلیف شروع ہوئی جب پتہ چلاکہ دل میں سوراخ ہے جن کے آپریشن کرنے پر5لاکھ کاخرچہ آئیگااورآپریشن ناگزیرتھاتومجھے کسی نے بتایاکہ پشاورمیں دل کے مریضوں کے ہسپتال موجودہے ۔پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سرجن طارق کے پاس گیاجنہوں نے میراصحت انصاف کارڈ کے ذریعے مفت علاج کرایا جبکہ میرے پاس کارڈ موجود نہیں تھاکہ وہاں کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے ۔

سوات سے تعلق رکھنے والے عالم خان کاکہناہے کہ مجھے دل کی بیماری لاحق تھی میراسیدوشریف ہسپتال آناجانالگارہتاتووہاں پرڈاکٹروں نے مجھے بتایاکہ آپ کاعلاج پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے بالکل مفت ہوسکتاہے ،آج اسی انسٹیٹیوٹ میں میرے ایک شناختی کارڈ پربالکل مفت علاج ہورہاہے جبکہ میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں 4پانچ لاکھ کے خرچے سے بچ گیاجوکہ صرف اورصرف صحت انصاف کارڈ کے بدولت ممکن ہوا۔انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام پرزوردیاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے اس سے آپ کامفت علاج ہوگا۔

ہنگوکے رسول گل کاکہناہے کہ 15مئی کومجھے ہارٹ اٹیک ہوامجھے کوہاٹ کے ہسپتال لے جایاگیاجہاں سے مجھے پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوج ریفرکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ پشاورانسٹٹیوٹ آف کارڈ یالوجی میں میرے ساتھ صحت انصاف کارڈ نہ ہونے کے باوجود صرف ایک شناختی کارڈ کے زریعے میراعلاج کرایاگیاکیونکہ مجھے ڈاکٹروں نے بتایاکہ شناختی کارڈ ہی آپ کاصحت انصاف کارڈ ہے جس سے خیبرپختونخوا حکومت دس لاکھ روپے تک اخراجات برداشت کررہی ہے ۔ایبٹ آبادسے تعلق رکھنے والے چن زیب کاکہناہے کہ مجھے دل میں شدیدنوعیت کے تکلیف شروع ہوئی میں ایبٹ آبادسے سیدھاپشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اپنے علاج کیلئے آیاانہوںنے کہاکہ لوگ اپنے علاج کیلئے مکان ،زیوراورجائیدادوغیرہ فروخت کرتے ہیں لیکن یہاں حیرت انگیزطورپرمیرے اپنے شناختی کارڈ پربالکل مفت علاج ہورہاہے ۔انہوں نے کہاکہ شناختی کارڈ ہی میراصحت انصاف کارڈ ہے جس سے میرے دل کامفت علاج ہورہاہے ۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق اس پروگرام سے جہاں شہریوں کو بہترین طبی سہولیات میسر آئیں گی وہیں ان کا معیار زندگی بھی بلند ہوگا، عوام اپنے علاج معالجے پر خرچ ہونے والی رقم بچا کر دیگر امور میں خرچ کر سکیں گے، صحت سہولت پروگرام کی لانچنگ کیلئے خیبرپختونخوا حکومت اور سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے جبکہ شہریوں کے کوائف کے حوالے سے نادرا کے ساتھ بھی محکمہ صحت نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=260654

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں