صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کاسلامتی کونسل میںکشمیر کی صورتحال کو زیر بحث نہ لانے سے متعلق کونسل کی صدر کے بیان پرمایوسی کا اظہار

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کیرن پیرس کے اس بیان پر سخت مایوسی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس ماہ سلامتی کونسل کشمیر کی صورتحال کو زیر بحث نہیں لائے گی کیونکہ اس مسئلہ کو گیارہ ہفتے پہلے سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا جا چکا ہے۔ پیر …

اسلام آباد ۔ 4 نومبر (اے پی پی) آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کیرن پیرس کے اس بیان پر سخت مایوسی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس ماہ سلامتی کونسل کشمیر کی صورتحال کو زیر بحث نہیں لائے گی کیونکہ اس مسئلہ کو گیارہ ہفتے پہلے سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا جا چکا ہے۔ پیر کو سلامتی کونسل کی رواں ماہ کی صدر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ سلامتی کونسل یہ کہتی ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو زیر بحث نہیں لا سکتی کیونکہ اس کو حال ہی میں زیر بحث لایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سال 16اگست کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کے بعد مقبوضہ وادی میں حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید سنگین تر ہو گے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اس وقت تک مسلسل اجلاس بلا کر غور کرتی رہے جب تک اس تنازعہ کا کوئی قابل عمل حتمی حل سامنے نہیں آجاتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد علاقے کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی جا رہی ہے ۔ بھارت نے چند دن قبل ریاست کو دو حصوں میں تبدیل کر کہ نہ صرف اس کی وحدت پر حملہ کیا ہے بلکہ کشمیر کو اپنی کالونی بنانے اور نسلی تطہیر کے ذریعے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی طرف عملی قدم بھی اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت سلامتی کونسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے بلکہ ایک قابض ملک کے ہاتھوں کشمیریوں کی منظم نسل کشی اور نسلی تطہیر کو بھی روکے جس کے راستے پر بھارت منظم منصوبہ بندی کے تحت گامزن ہو چکا ہے۔