صومالیہ میں بحری قذاق پاکستانی مغویان کے بدلے 30 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں، متعلقہ وزارتیں اور پاکستانی مشنز ان کی رہائی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور
صومالیہ میں بحری قذاق پاکستانی مغویان کے بدلے 30 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں، متعلقہ وزارتیں اور پاکستانی مشنز ان کی رہائی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ صومالیہ میں بحری قذاق پاکستانی مغویان کے بدلے 30 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں، متعلقہ وزارتیں اور پاکستانی مشنز ان کی رہائی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، تاوان کی رقم کی ادائیگی کے بعد نیا راستہ کھل جائے گا، اس راستے سے تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد کی آمدورفت ہے۔
صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کی حراست،ان کی وطن واپسی میں تاخیر اور بیرون ملک پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ جبوتی کے ذریعے صومالیہ سے رابطہ کی کوشش کررہے ہیں،جہاں ان کو رکھا گیا ہے وہاں پر صومالیہ کی حکومت کا کنٹرول نہیں،ہمارے لوگ بحفاظت ہیں،ان کو یرغمال بنانے والوں نے بڑی رقم کا مطالبہ کیا ہوا ہے،لندن میں ہمارا سفارتخانہ بھی فعال ہے،پیرو کا جھنڈا لگا ہوا تھا یہ چھوٹا جہاز ہے،کسی ملک نے اس کی ملکیت نہیں لی،جلد پیشرفت متوقع ہے۔
عبدالقادر پٹیل کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایوان میں اعداد وشمار کے ساتھ بات ہوتی ہے ،ہوا میں بات نہیں ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ صومالیہ کا اس علاقہ پر کنٹرول موثر نہیں ہے،بحری قذاقوں کے ساتھ مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں،وہ 30لاکھ ڈالر مانگ رہے ہیں،اس راستے میں تسلسل کے ساتھ آئل ٹینکرز کی آمد ورفت ہے، اگر اس پر ایک بار تاوان دیا گیا تو پھر یہ معاملہ چل پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ وزارت خارجہ اس معاملہ پر چوکس ہے۔میر شبیر علی بجارانی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت انسانی حقوق نے بھی بین الوزارتی اجلاس منعقد کیا،معاملہ کی سنگینی کا ادراک ہے،متاثرین کی فیملی کے کرب کا بھی ادراک ہے،کوشش کریں گے کہ جلد ازجلد اس کا حل نکلے۔
شاہدہ رحمانی نے بتایا کہ انہیں 5 ماہ ہوگئے ہیں،ان کا خاندان اذیت میں ہے۔ان کے سوال کے جواب میں طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزارت کسی جگہ پر غیر سنجیدہ نہیں،تمام آپشن استعمال کئے گئے ہیں،تاوان کی رقم ادا کردی گئی تو پھر کوئی جہاز وہاں سے پرامن نہیں گزر سکے گا۔مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ 6 سیلرز کا تعلق کراچی سے ہے،13 اگست کو ایک اجلاس وزیر خارجہ کی زیر صدارت منعقد ہوا اس کی تفصیل دی جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہاں کے زعماء سے بھی بات چیت ہورہی ہے،جہاز کے مالک کا پتہ دبئی کا تھا جو درست نہیں ہے،متعلقہ وزارتیں اور مشن اس پر کام کررہے ہیں،عبدالقادر پٹیل اگر صومالیہ جانا چاہتے ہیں تو حکومت ان کے سفری اخراجات برداشت کرے گی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مغویان سے کوئی رابطہ موجود ہے؟جہاز کا مالک یمنی ہے،چار جہاز اس کے بعد مزید اغواء کئے گئے ہیں،کیا ان چار جہازوں کی تفصیل لے کر متعلقہ محکمے عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے کرسکتے ہیں،ہم نے ماضی میں یرغمالیوں کو رہا کرایا تھا تاجروں سے پیسے جمع کئے تھے،ہمیں یہ ٹاسک دیں، ہم یہ رقم دیں گے،ہم 22 ارکان اپنے ترقیاتی بجٹ میں سے ایک ایک کروڑ دے دیں گے،بے حسی کا مظاہرہ نہ کیا جائے،سندھ حکومت بھی اپنا حصہ ڈالے،ترقیاتی بجٹ اس مقصد کے لئے نہیں دے سکتے۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایم این ایز کو کوئی ترقیافی فنڈ مختص نہیں ہوتا،یہ واقعات اب وہاں معمول بن چکے ہیں،متعلقہ لوگ مشاورت سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لئے کوشاں ہیں۔









