عالمی اقتصادی و سماجی کونسل کے سربراہ کا درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی تعاون پر زور

نیویارک ۔4نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے سربراہ ، پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ موجودہ غیر مساوی عالمی نظام رکن ممالک میں اجتماعی اور تعاون پر مبنی سلامتی کے نظریات میں ناکامی کا ذمہ دار ہے اس لئے دنیا کو درپیش متعدد چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی تعاون اشد ضروری …

نیویارک ۔4نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے سربراہ ، پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ موجودہ غیر مساوی عالمی نظام رکن ممالک میں اجتماعی اور تعاون پر مبنی سلامتی کے نظریات میں ناکامی کا ذمہ دار ہے اس لئے دنیا کو درپیش متعدد چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی تعاون اشد ضروری ہے، سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر تنازعات کی کثرت سے اس غیر مساوی عالمی نظام کا پتا چل سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نےخانہ جنگی کو روکنے والے عوامل بارے وڈیولنک کونسل مباحثے کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تنازعات کی اصل وجوہات وسائل کے لئے اندرونی جدوجہد سے لے کرقیمتی قدرتی وسائل کے لئے بیرونی مسابقت اور لوگوں کی اپنی سیاسی اور معاشی منزل کی بحالی کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو دبانے کے لئے مداخلت ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی دنیا ہے جس میں طاقت کے اصولوں پر غلبہ پانے سے کمزوروں کی آواز دب جاتی ہے اورمضبوط چارٹر کے بنیادی اصولوں ، سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزیوں کوبھی استثنیٰ مل جاتاہے جہاں بین الاقوامی تعاون کا دیاگیاحکم چارٹرسے تیزی سے غائب ہوجاتاہے۔ سفیر منیر اکرم نے کہاکہ اب کورونا وائرس کی وبائی بیماری کی وجہ سے ، عالمی اقتصادی شرح نمو میں 5-10 فیصد تک کمی کا امکان ہے جس کااس بات پر انحصار ہے کہ وائرس پر کب قابو پایاجائے گا۔اس سلسلے میں ، ای سی او ایس او سی کے سربراہ نے ترقی پذیر ممالک کے لئے عالمی قرض معافی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ذریعہ کینیڈا اور جمیکا کے وزرائے اعظم کے ساتھ ترقیاتی عمل کے لئے بروقت مالی اعانت کے لئے اپریل میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے اقدام پر روشنی ڈالی،تاہم کہا کہ ان کے جواب میں کام کرنے کی پوزیشن میں آنے والوں کا ردعمل انتہائی معمولی اور مایوس کن رہا۔ای سی او ایس او سی کے سربراہ نے ڈھانچہ جاتی عدم مساوات کے ازالے کی ضرورت پر زور دیا جس کی وجہ سے دنیا کو موجودہ اور سابقہ مالی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ان اصلاحات میں جامع متوازن اور شفاف قرضے کے انتظام کا طریقہ کار ، ترقی پذیر ممالک کے لئے ترجیحی بینکاری کے ضوابط، منصفانہ بین الاقوامی ٹیکس رجیم، ترقی پذیر ممالک سے غیر قانونی مالی بہائو کا خاتمہ،ترقی پذیر ممالک میں پائیدار انفراسٹرکچر میں سالانہ کم از کم ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور ترقی پذیر ممالک کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجیز تک بالخصوص ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لئے ترجیحی رسائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں طاقتور ترین ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنیوں کو ختم کرنے اور نئی اور مہلک ہتھیاروں کی دوڑ کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی کام کرنا چاہئیں ،جب تک ہم ایسا نہیں کرتے ، علاقائی تنائوبڑھتا جائے گا اور تنازعات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اگر متحرک ہو تو عالمی امن و سلامتی ، مساوی اور جامع ترقی کوپائیدار عالمی معاشی میں بدل سکتاہے اور سماجی و سیاسی نظم و ضبط کی راہ ہموار کرنے کی اس عظیم الشان کوشش میں تعاون کر سکتاہے ۔

مزید خبریں