26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںعرب و اسلامی ممالک کے مشترکہ اجلاس کا سلامتی کونسل سے غزہ...

عرب و اسلامی ممالک کے مشترکہ اجلاس کا سلامتی کونسل سے غزہ میں تباہی کی مذمت کرنے اور اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمہ کو یقینی بنانے کا مطالبہ

- Advertisement -

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ مشترکہ عرب و اسلامی ممالک کے غیر معمولی سربراہ اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں تباہی، لوگوں کے بے گھر ہونے ،بنیادی خدمات اور ضروریات کی فراہمی روکنے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمہ کو یقینی بنائے۔

پیر کو جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق ہفتہ کو سربراہی اجلاس میں عالمی ادارہ سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی محاصرہ ختم کیا جائے، غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور استعماری قبضہ کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے ۔ 11 نومبر کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے سربراہان مملکت اور حکومت کی موجودگی میں عرب اور اسلامی ممالک کا مشترکہ غیر معمولی اجلاس ہوا ، جس میں منظور کی گئی قرارداد میں فلسطینی نصب العین کے لئے تمام مقبوضہ علاقوں کی آزاد ی کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کے لیے تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ فلسطینیوں کی مدد کرنے ،اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا گیا ،

- Advertisement -

قرارداد میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ اس وقت تک اسرائیل اور خطہ کے تمام ممالک کو امن و سلامتی حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ فلسطینیوں کو امن و سلامتی حاصل نہیں ہوتا اور انہیں تمام غصب شدہ حقوق دوبارہ نہیں مل جاتے ،مشترکہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں تباہی کی مذمت کرے اور اسرائیلی بربریت فوری طور پر روکنے کو یقینی بنائے۔اس قرار داد میں سعودی عرب کو عرب سربراہی اجلاس اور اسلامی سربراہی اجلاس اور اردن، مصر، قطر، ترکیہ، انڈونیشیا، نائیجیریا، فلسطین اور دیگر دلچسپی رکھنے والے ممالک کے وزرائے خارجہ کے چیئر مین کی حیثیت سے اوردونوں تنظیموں کے سیکر ٹری جنرلز اور عرب لیگ کے تمام رکن ممالک کی جانب سے غزہ پر جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کارروائی شروع کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا۔قرار دادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تمام ممالک قابض اتھارٹی کو اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمد بند کر یں جسے قابض فوج اور صیہونی آباد کار دہشت گرد، فلسطینیوں کو قتل کرنے اور ان کے گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، مساجد، گرجا گھروں اور ان کی تمام املاک کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قرارداد میں او آئی سی اور عرب ممالک کے دو جنرل سیکرٹریٹ کو 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں قابض حکام کے تمام جرائم کی دستاویز کرنے اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کے ثبوت تیار کرنے کے لیے دو خصوصی قانونی مانیٹرنگ یونٹس قائم کرنے کا بھی اختیار دیاگیا، مشترکہ اجلاس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ)، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور انسانی حقوق کونسل (HRC) میں ریاست فلسطین کے قانونی اور سیاسی حقوق کے لئے اپنی حمایت کی تائید کی اورآئی سی سی کے پراسیکیوٹر سے بھی درخواست کی کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات جاری رکھے اور جتنی جلدی ممکن ہو ایک بین الاقوامی امن کانفرنس طلب کی جائے، قرار داد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع معاہدہ ہی واحد راستہ ہے جسے بین الاقوامی قانونی قرار دادوں اور عرب امن معاہدہ اقدام کی بنیاد پر بنیادی شرائط کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی تمام شقوں اور ترجیحات کی تجدید کی جائے۔ قرارداد میں سیاسی، قانونی اور انسانی ہمدردی کے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے جن میں غزہ کا محاصرہ ختم کرنا، عرب، اسلامی اور بین الاقوامی انسانی امداد کے قافلوں کے داخلے کو یقینی بنانا، اور فوری امداد پہنچانے کے لیے مصر کی کوششوں کی حمایت کرنا شا مل ہے ،

قرار داد میں جاری اسرائیلی جارحیت کو انتقامی جنگی جرم قرار دیا گیا جسے کسی بھی آڑ میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت فلسطین اور یو این آر ڈبلیو اے کو امداد اور مالی، اقتصادی اور انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کے لیے عرب اور اسلامی مالیاتی سیفٹی نیٹ کو فعال کیا جائے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو متحرک کیا جائے تاکہ اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے اثرات کو روکا جائے، قرارداد میں غزہ میں فوجی جارحیت اور اسرائیلی جنگی جرائم و وحشیانہ اور غیر انسانی قتل عام ، صیہونی آباد کاروں کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی ۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں