20.5 C
Islamabad
ہفتہ, اپریل 5, 2025
ہومشوبزعزیز میاں قوال کو ہم سے بچھڑے تیئس برس بیت گئے

عزیز میاں قوال کو ہم سے بچھڑے تیئس برس بیت گئے

- Advertisement -

فیصل آباد۔ 05 دسمبر (اے پی پی):پرائیڈ آف پرفارمنس عزیز میاں قوال کی تیئسویں برسی کل 6دسمبر بروزبدھ کومنائی جا ئے گی۔ان کی پیدائش بھارت کے شہر دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے دس برس کی عمر میں قوالی سیکھنا شروع کی اور 16 سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے ۔ ان کی مشہور قوالیوں میں تیری صورت، مجھے آزمانے والے، میں شرابی میں شرابی، اللہ ہی جانے کون بشر ہے، نبیؐ نبیؐ یا نبی ؐشامل ہیں۔ طویل قوالی’’ حشر کے روز ہی پوچھوں گا‘‘ انھوں نے خود لکھی‘ خود کمپوز کی۔ ان کی قوالیاں سننے والوں پرآج بھی وجد طاری کر دیتی ہیں۔

حکومت نے ان کو کئی اعزازات سے نوازا۔ 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس بھی دیا۔عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ان کا اصل نام عبد ا لعزیز تھا۔ "میاں”ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔

- Advertisement -

انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز "عزیز میاں میرٹھی” کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔انہیں اپنے ابتدائی دور میں "فوجی قوال” کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔ عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔

ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں "میں شرابی میں شرابی”یا "تیری صورت” اور "اللہ ہی جانے کون بشر ہے” شامل ہیں۔عزیز میاں قوال کو حکومت پاکستان سے 1989میں پرائیڈ آف پرفارمنس دیا۔ عزیز میاں کا انتقال دسمبر 6، 2000ء کو تہران (ایران)میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔

انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کے لیے مدعو کیا تھا۔ عزیز میاں کے دو بیٹے، عمران اور تبریز، ان کے ورثہ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دونوں قوالی کے انداز میں اپنے والد سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ آپ کو بمطابق وصیت ان کے مرشد طوطاں والی سرکار ملتان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=416740

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں