اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ علم وادب کے ذریعے ہی ہم زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور علم وادب ہماری تاریخ کا ریکارڈ ہوتا ہے ، یہ انسانی تجربے کے تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر ناصر حسین بخاری کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ علم و ادب کی اہمیت کوکسی بھی دور میں کم یا نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ علم وادب کے ذریعے ہی ہم زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا مقابلہ کرتے ہیں اورعلم وادب ہماری تاریخ کا ریکارڈ ہوتا ہے ۔ یہ انسانی تجربے کے تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کہانیوں، شاعری اور نثر کے ذریعے ہی ہم اپنی شناخت کو محفوظ اور تبدیلی کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ ادب ہی ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کا احساس دلانے میں مدد کرتا ہے،ہمیں ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے تحریک دیتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ڈاکٹر ناصر حسین بخاری کی ادبی و غیر معمولی تحریری ذہانت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ڈاکٹر ناصر حسین بخاری کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ادب اور تحقیق کے فروغ کے لیے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ فاونڈیشن فار ایجوکیشن، انٹرپرینیورشپ، اینڈ لٹریچر (ایف ای ای ایل)کا اس شاندار تقریب کے لئے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ فائونڈیشن موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، صحت اور تجارت کے فروغ جیسے اہم مسائل پر انتھک کام کر رہی ہے اور خاص طور پر طلباءکو خود انحصاری کے قابل بنانے کے لئے ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہاسی طرح ادب اور ثقافت کے فروغ میں ان کا کام قابل تعریف اور ہمارے معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انجینئرز کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ایف ای ای ایل کے سی ای او ڈاکٹر ذکاءاللہ خان، نائب صدر ڈاکٹر صلاح الدین درویش اور فائونڈیشن کے تمام ممبران جنہوں نے اس نیک اقدام کو آگے بڑھایا ہے۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شہید بھٹو فاونڈیشن کے سی ای او آصف خان، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اور یوتھ کونسل کو ایسی شاندار تقریب کے انعقاد میں تعاون کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ تقریبات ہمیں معاشرے میں ادب کی لازوال اہمیت کی یاد دلاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرناصر حسین بخاری کی زندگی کو اتنی واضح اور دیانتداری سے پیش کرنے کی صلاحیت ان کی تحریری صلاحیتوں اور انسانی تجربے کے بارے میں ان کی گہری سمجھ کا ثبوت ہے اور ان کہانیوں کے کردار ہمارے معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ایسے کرداروں کا ہم ہر روز سامنا کرتے ہیں لیکن پھر ان کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصنیف میں جن کرداروں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ خیالی نہیں بلکہ وہ حقیقی افراد ہیں۔یہ کردار انہی رکاوٹوں اورمسائل سے نمٹ رہے ہیں جن کا ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگوں کو سامنا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ روزمرہ کی زندگی کی کڑواہٹ سے بنے یہ کردار مستند آواز میں بولتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر، میرے لیے جو چیز ڈاکٹرناصرحسین بخاری کے کام کو حقیقتاً الگ کرتی ہے وہ ان کی ہمدردی ،عقیدہ، ذات اور طبقے کی حدود سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت تک پھیلی ہوئی ہے۔ان کی کہانیاں پسماندہ اور بھولے بھالے لوگوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ڈاکٹر ناصرحسین بخاری ایک ایسی دنیا کی خواہش رکھتے ہیں جہاں ہر بچے کو تعلیم اور بنیادی سہولت میسر ہو۔ ان کی کہانیاں ہمیں ایک ایسے معاشرے کا تصور اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جہاں یہ خواب حقیقت بنیں۔انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر ناصر حسین بخاری کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ڈاکٹر ناصر نے کتابوں کی رائلٹی کے بارے میں بات کی ہے، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھوں گا۔چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مصنفین کے حقوق کے تحفظ کے لئے اسے مناسب فورم پر اٹھائوں گا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=508197