غزہ میں جنگ کے باعث 90 فیصد بچے نفسیاتی مسائل ،جارحانہ پن کا شکار ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔14نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں دوسالہ جنگ کے باعث 90 فیصد سے زیادہ بچے سخت نفسیاتی مسائل کے باعث جارحانہ پن کا شکار ہیں،روز مزہ زندگی کی آسائشیں ختم ہونے کی وجہ سے ان میں تحفظ و استحکام کا احساس ختم ہوچکا ہے،ان کی صحتیابی کے لیے مستقل اور طویل مدتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔یہ بات اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی …

اقوام متحدہ۔14نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں دوسالہ جنگ کے باعث 90 فیصد سے زیادہ بچے سخت نفسیاتی مسائل کے باعث جارحانہ پن کا شکار ہیں،روز مزہ زندگی کی آسائشیں ختم ہونے کی وجہ سے ان میں تحفظ و استحکام کا احساس ختم ہوچکا ہے،ان کی صحتیابی کے لیے مستقل اور طویل مدتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔یہ بات اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی حقوق (اوچا)نے ستمبر کے دوران کرائی گئی ایک جائزہ سروے رپورٹ میں کہی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں 10 میں سے 9 سے زیادہ بچوں میں جارحانہ پن کی علامات ہیں،علاقے میں ہوشربا تباہی و بربادی کے باعث ضروریات زندگی ناپید ہیں،ان میں احساس تحفظ ختم ہونے کی وجہ سے جارحانہ پن نمایاں ہے۔

انسانی ہمدردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی صحتیابی اور انہیں معمول پر لانے کے لیے مستقل بنیاد پر طویل مدتی کوششوں کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہ کہ سروے کے دوران 93 فیصد بچوں نے جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا،90 فیصد اپنے سے چھوٹوں پر تشدد کررہے تھے،96 فیصد اداسی و پسپائی کا شکار اور 79 فیصد کو نیند میں خلل کی شکایات تھیں جبکہ 69 فیصد نے مطالعاتی سرگرمیوں سے انکار کردیا۔ماہرین کے کہنا ہے کہ غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں،غزہ کی پٹی کے 50 فیصد سے زیادہ علاقے پر اسرائیلی فوج تعینات ہے،لوگوں میں تشدد اور عدم تحفظ کا خوف ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی ماہی گیروں کی سمندروں تک رسائی ناممکن ہے،اسرائیلی فوجی انہیں یلو لائن کے نام پر حراست میں لے لیتے ہیں،رہائشی عمارتوں کے قریب روزانہ دھماکوں کی اطلاع ملتی ہے ، انسانی اثاثوں، عوامی انفراسٹرکچر اور زرعی اراضی تک رسائی محدود یا مکمل طور پر ممنوع ہے، اوچا کا کہنا ہے کہ غزہ کی 2.1 ملین (21 لاکھ)آبادی میں سے تقریباً ایک ملین 862 نقل مکانی کے مقامات پر رہتے ہیں،ان میں سے نصف سے زیادہ خان یونس کے جنوبی علاقے میں ہیں، 264 دیر البلاح میں، 180 غزہ اور شمالی غزہ کی گورنریٹس میں ہیں جبکہ 8مقامات رفح میں ہیں۔بہت سے کیمپوں میں زیادہ بھیڑ ہوتی ہے جس سے لڑکیوں اور بچوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں بالخصوص معذور افراد جو تشدد، غفلت ، پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولیات تک خطرناک رسائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) کے مطابق تقریباً75 ہزار افراد اس کی پناہ گاہوں اور آس پاس کے علاقوں میں رہ رہے ہیں،نوجوان شدید بے چینی،رویے میں تبدیلی اور محفوظ مقامات کی مسلسل کمی پرتشویش کا شکار ہیں۔انروا کا کہنا ہے کہ لڑائی میں متفقہ وقفے کے بعد سے چار ہفتوں میں انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے غزہ کی پٹی میں 132,000 سے زیادہ بچوں کے تحفظ کی خدمات فراہم کیں۔ اوچا کے مطابق تقریباً 1,600 معذور بچے اور 45,000 دیکھ بھال کرنے والے شامل ہیں۔مدد میں انفرادی نفسیاتی مشاورت، گروپ سیشنز، تناؤ کے انتظام کی سرگرمیاں، تفریحی نفسیاتی سماجی مدد اور مزید حوالے شامل ہیں،اس کا مقصد غزہ کی پٹی میں تقریباً دس لاکھ بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ماہ ایک لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنا ہے۔

مزید خبریں