فنڈنگ کی شدید کمی کے بعد یو این آر ڈبلیو اے کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور یا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے لیے 100 ملین ڈالر کی مالی کمی کو پورا کریں ،فنڈنگ کی شدید کمی کے بعد ادارے کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ۔

اقوام متحدہ۔1جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور یا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے لیے 100 ملین ڈالر کی مالی کمی کو پورا کریں ،فنڈنگ کی شدید کمی کے بعد ادارے کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں ۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رضاکارانہ مالی تعاون سے متعلق خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عائد وسیع پابندیوں اور شدید مالی کمی کی وجہ سے یو این آر ڈبلیو اے کی صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ یو این آر ڈبلیو اے غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں خوراک، تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور تقریباً 26 لاکھ فلسطینیوں کو پناہ گاہ کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ امریکا ماضی میں یو این آر ڈبلیو اے کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، تاہم اسرائیل کے یو این آر ڈبلیو اے کے تقریباً ایک درجن اہلکار وں کے 7اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام کے بعد امریکا نے جنوری 2024 میں ادارے کی فنڈنگ معطل کر دی تھی ۔ سویڈن نے بھی 2025 کے لیے ادارے کے لئے اپنی مالی امداد معطل کر دی جبکہ دیگر کئی بڑے عطیہ دہندگان نے تحقیقات مکمل ہونے تک فنڈنگ روک دی تھی، تاہم بعد میں بیشتر ممالک نے دوبارہ امداد بحال کر دی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فنڈز کی کمی کے باعث یو این آر ڈبلیو اے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے ،جس کے مینڈیٹ کی تجدید صرف چھ ماہ قبل جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کی فوری مالی معاونت کے بغیر یہ ادارہ اس طرح کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے نے اسرائیلی الزامات کے بعد اصلاحات نافذ کی ہیں اور بیرونی و سیاسی سرگرمیوں سے متعلق اپنی پالیسی کو بھی مزید مو ثر بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے غیر یقینی کے اس دور میں استحکام کی علامت ہے لیکن اسے غلط معلومات، بدنامی کی مہم، قانون سازی، عملی رکاوٹوں اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے 390 اہلکار مارے جا چکے ہیں جبکہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تقریباً 1,000 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کمی کے باعث یو این آر ڈبلیو اے نے رواں سال اپنی خدمات کے اوقات میں 20 فیصد کمی کی ہے، مقامی ملازمین کی تنخواہیں کم کی گئی ہیں اور بین الاقوامی عملے کی 15 فیصد آسامیاں خالی رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فنڈز کی مزید کمی ادارے کی صورتحال کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا سکتی ہیں جس کے بعد ادارہ ختم ہو سکتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے کو وجودی بحران کا سامنا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے کی ویب سائٹ کے مطابق 2025 کے دوران ادارے کو تقریباً 887 ملین ڈالر کے وعدے موصول ہوئے، جن میں سے 829 ملین ڈالر وصول کیے جا چکے ہیں، جو اس کی 3.3 ارب ڈالر کی مجموعی مالی ضرورت کا صرف 27 فیصد بنتے ہیں۔

مزید خبریں