لاہور۔26جنوری (اے پی پی):ضلع شیخوپورہ میں پنجاب حکومت کے تیار کردہ قائداعظم بزنس پارک میں عملی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے جہاں 11 فیکٹریوں نے باقاعدہ پیداوار شروع کر دی ہے، یہ پیشرفت صوبے میں صنعتی ترقی کے عمل میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔پنجاب انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین میجر (ر) جاوید اقبال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ 11 فیکٹریاں پیداوار …
قائداعظم بزنس پارک میں 11 فیکٹریوں نے پیداوار شروع کر دی
لاہور۔26جنوری (اے پی پی):ضلع شیخوپورہ میں پنجاب حکومت کے تیار کردہ قائداعظم بزنس پارک میں عملی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے جہاں 11 فیکٹریوں نے باقاعدہ پیداوار شروع کر دی ہے، یہ پیشرفت صوبے میں صنعتی ترقی کے عمل میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔پنجاب انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین میجر (ر) جاوید اقبال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ 11 فیکٹریاں پیداوار شروع کر چکی ہیں جبکہ مزید 43 صنعتی یونٹس یا تو زیرِ تعمیر ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے 174 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے کئے گئے ہیں جن کے جلد عملی شکل اختیار کرنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بزنس پارک لاہور–اسلام آباد موٹر وے کے قریب شیخوپورہ میں واقع ہے جس کی وجہ سے لاہور اور دیگر بڑے شہروں تک آسان رسائی ممکن ہے اور یہی پہلو صنعتی سرمایہ کاروں کے لئے کشش کا باعث بن رہا ہے۔تقریباً ایک ہزار آٹھ سو ساٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلے اس منصوبے میں 200 ایکڑ اراضی مزدور کالونی کے لئے مختص کی گئی ہے جہاں لگ بھگ 30 ہزار مزدوروں کے لئے رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکومت نے اس بزنس پارک کو خصوصی اقتصادی زون قرار دیا ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو مشینری کی درآمد پر ایک بار کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ اور دس سالہ آمدن ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔
حکام کے مطابق منصوبے کے ماسٹر پلان میں جدید دفتری عمارات، صنعتی کلسٹرز اور اعلیٰ سہولیات شامل ہیں۔ بزنس پارک کے مرکزی مقام پر دو لاکھ مربع فٹ پر مشتمل سینٹر وے بزنس اسکوائر تعمیر کیا جا رہا ہےجبکہ ایک علیحدہ موٹر وے انٹرچینج کی تعمیر کا بھی منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ فضلہ صفائی پلانٹ بھی منصوبے کا حصہ ہے۔چیئرمین نے بتایا کہ اس منصوبے سے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کے لئے تقریباً دو لاکھ 50ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ صنعتی شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
صنعتی یونٹس اور دفاتر کے علاوہ بزنس پارک میں 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل گارمنٹس سٹی بھی قائم کیا جائے گا جہاں کثیر المنزلہ عمارتوں میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت سے وابستہ پیداوار، ذخیرہ اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کی قومی گرڈ کمپنی نے شیخوپورہ میں 220 کلو وولٹ کا علیحدہ گرڈ سٹیشن فعال کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق چار ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ حکومتی کیش ڈیپازٹ قرض سہولت کے تحت مالی اعانت سے مکمل کیا گیا ہے جو خصوصی اقتصادی زون میں قائم بڑے صنعتی صارفین کی بجلی کی ضروریات پوری کرے گا۔
کاروباری برادری نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے کہا کہ ٹیکس چھوٹ جیسی مراعات کی وجہ سے متعدد صنعتی گروپ اس زون میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکمل ہونے کے بعد یہ صنعتی مرکز بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں برآمدات کے فروغ کے ذریعے قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔









