اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):ماہرین نے قرار دیا ہے کہ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے ساتھ ماحولیاتی مسابقتی صنعت کو فروغ دینے اور گرین اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈز) کی ترقی کے لئے پاکستان اور چین کے مابین تعاون نہایت اہم ہے ۔ماہرین نے یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور گرین سی پیک الائنس کے زیر اہتمام”سی پیک کے تحت زیڈز کی ترقی: چین کے گرین ماڈل سے سیکھنا“ کے موضوع پر ویبنار میں کہی ، ویبنار میں ممتاز ماہرین اور پالیسی سازوں نے گرین انڈسٹریلائزیشن کے ذریعے پاکستان میں پائیدار خصوصی اقتصادی زونز کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔سرمایہ کاری بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ارفع اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ایس ای زیڈز کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کو پاکستان کی ماحولیاتی اور معاشی ترقی کے لئے نہایت اہم قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت9 خصوصی اقتصادی زونز میں سے4پہلے ہی کام کر رہے ہیں جبکہ دیگر پر پیشرفت تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی ترقی کے لئے بہترین مراکز قائم کرنے کیلئے عالمی سطح پر کامیاب ایس ای زیڈ ماڈل پاکستان میں بھی لاگو کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی ترقی کے اگلے مرحلے کےلئے ایکو انڈسٹریل پارکس کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے گرین انوویشن سپلائی چینز، تحقیق و ترقی کے منصوبوں اور مالیاتی منڈیوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی معیشت کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکے۔ ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے سربراہ، انجینئر عبید الرحمان ضیا نے کہا کہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے 2 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے 2024 میں سولر پی وی کی 16 گیگاواٹ صلاحیت درآمد کی گئی ہے، اسی طرح پاکستان میں الیکٹرک وہیکل مارکیٹ بھی چین کی مدد سے دوبارہ ترقی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت زیڈز نہ صرف قابل تجدید توانائی کے مواقع پیدا کر رہے ہیں بلکہ الیکٹرک وہیکل مارکیٹ کی لوکلائزیشن میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جو پاکستان کی کم کاربن ترقی میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
گوانگژوو انسٹی ٹیوٹ آف انرجی کنورژن کے پروفیسر ڈاکٹر پینگ وانگ نے گوانگ ڈونگ صوبے کے کم کاربن صنعتی زون کے کامیاب ماڈل کی تفصیلات بتائیں۔ ڈاکٹر وانگ نے پاکستان کے لئے بھی اسی طرح کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات تجویز کیں جن میں شہر اور سیکٹر کی سطح پر کاربن نیوٹرلٹی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر سعید بادشاہ نے پاکستان میں ایس ای زیڈز کو درپیش چیلنجز، جیسے قابل تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی زیادہ لاگت، زمین کی خریداری میں مشکلات، اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو اجاگر کیا۔
انہوں نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کےلئے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کی تجویز پیش کی۔کموڈور ڈاکٹر عمران الحق نے سرکلر اکانومی اور ماحولیاتی، سماجی، اور گورننس (ای ایس جی) رپورٹنگ کے ذریعے گرین زیڈز کے قیام پر زور دیا۔شرکا نے گرین زیڈز کی کامیابی کے لئے مضبوط پالیسی فریم ورک، مقامی جدت طرازی اور چین کے تجربات سے استفادہ کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=548757