28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومخصوصی فیچرزقبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے موزوں

قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے موزوں

- Advertisement -

پشاور۔4جولائی (اے پی پی):قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے علاقے زیتون کی کاشت کیلئے اتنی ہی موزوں ہے جتنا کہ اسپین اور اٹلی ۔ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوامیں زیتون کی کاشت تیزی سے جاری ہے،جس سے نہ صرف کاشت کار خوشحال ہوگا بلکہ اس سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا’ اسلامی اعتبار سے زیتون کا پھل خاص اہمیت کا حامل ہے’خیبرپختونخوا میں لگائے جانے والے زیتون کے درختوں سے پوار پاکستان مستفید ہوگا۔

دیر کے رہائشی محمد خان کا کہنا ہے کہ اپنی زمین پر زیتون کی کاشت شروع کرنا آسان نہیں تھاتاہم محکمہ زراعت کے دفاتر سے مشوروں کے بعد میں نے زیتوں کی کاشت کی آج ہماری آبائی زمین پر ایک لاکھ سے زائد زیتون کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 22ہزار پھل دے رہے ہیں، ہمارے خاندان کے 25لوگ اس میں حصہ دار ہیں اور ہر حصہ دار کو سالانہ کم ازکم دس لاکھ سے بیس لاکھ مل رہے ہیں۔محمد خان نے بتایاکہ کئی درختوں پر قلم کاری کی گئی، تین ہفتوں کے اندر ہی ان درختوں پر کونپلیں پھوٹ آئیں جبکہ کئی سو درختوں پر مختلف اقسام کی بہترین قسم کا زیتون کا پھل لدا ہوا تھا۔ مگر ہمیں ابھی بھی پتا نہیں تھا کہ پھل تو آ چکا ہے اور اب اس کا کرنا کیا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مشکلات کے بعد اب وہ نہ صرف تیل حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سے دیگر اشیا، جن میں مربہ، اچار، زیتون کے پتوں کا قہوہ وغیرہ شامل ہے، کو بھی تیار کر کے مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے ضلعی ڈائریکٹر ضیا اسلام داوڑ کا کہناہے کہ عالمی ماہرین نے سروے میں بتایاہے کہ باجوڑ زیتون کی کاشت کیلئے اٹلی اور اسپین ہی کی طرح موزوں ہے ‘اسی لیے خیبرپختونخوا حکومت نےاولیوپروڈکشن اینڈ پروموشن ٹرائبل ڈسٹرکٹ باجوڑسکیم ترتیب دیاجس کے تحت جنگلی زیتون میں پیوندکاری اورآرچرڈلگانا ہے،اس سکیم کے تحت باجوڑ میں تقریبا 2لاکھ 50ہزار جنگلی زیتون کی پیوندکاری کی گئی اور 150ایکٹر پر زیتون کے باغات لگائے گئے۔

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے فیلڈ اسسٹنٹ طور گل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت تقریبا تین دہائی قبل اس وقت شروع ہوئی تاہم باجوڑ میں زیتون کی کاشت منصوبہ شروع ہونے کے تحت جنگلی زیتون کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ یہ قسم صرف پہاڑی اور کھردری سطح زمین پر کامیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی اور اٹلی سے آنے والی زیتون کی قسمیں پاکستان کی آب و ہوا کے لیے نہ صرف موزوں ہیں بلکہ ان سے تیل کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ سمیت ضم شدہ علاقے زیتون کی کاشت کیلئے انتہائی زرخیز اور سود مند ہیں’ زیتون دسمبر سے لیکر فروری کے دوران آرام ملنے کے بعد اس پر پھول آجاتاہے اوراس کے پھلنے پھولنے کیلئے ضروری ہے کہ 10سے لیکر منفی2ڈگری سینٹی گریڈ حرارت دستیاب ہو ‘ انہوں نے کہاکہ جنگلی زیتون پر پھل دیر سے آتاہے تاہم پیوند کاری کے ذریعے پھل آنے کے دورانیہ کو کم کیاجاسکتاہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ زیتون کی بہترین قسم کی اس میں پیوندکاری کی جائے اور اچھے طریقے سے اس کی دیکھ بھال کی جائے تو پانچوویں یا چھٹے سال اس پر پھل آجائیگا۔انہوں نے کہاکہ جنگلی زیتون کا دانا چھوٹا ہوتاہے اور تیل بھی اس کے اندر کم ہوتاہے۔

اسپین ‘مشرق واسطی اور اٹلی سے اگر بہترین قسم کے زیتون کی یہاں پر پیوند کاری کی جائے جائے تو خوردنی تیل کی پیدوار میں اضافہ ہوگا جبکہ مختلف مقاصد کیلئے پراسز بھی ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ زیتون کی کاشت نہ صرف باجوڑ ‘ضم شدہ اضلاع اور خیبرپختونخوا کے زمینداروں کیلئے فائدہ مند ہوسکتی ہے بلکہ ان کی آمدنی دگنی سے چگنی ہوسکتی ہے۔ سبز انقلاب کی جانب خیبرپختونخوا نے ایک اور اہم قدم بڑھا لیا اور صوبے میں بڑی مقدار میں زیتون کی کاشت کا بڑا منصوبہ بنا لیا جس کے تحت صوبے میں سالانہ7ارب کلو خوردنی زیتون کی پیداوار کا امکان ہے۔اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے بتایا کہ اب خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں بڑے پیمانے پر زیتون کی کاشت کا آغاز کرنے جا رہی ہے جس کے تحت صرف ضلع دیر میں زیتون کی اچھی نسل کی 5اقسام کاشت کی جا سکیں گی۔

 

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں جنگلی زیتون کے تین کروڑ ساٹھ لاکھ درخت جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر زیتون کے سات کروڑ درخت موجود ہیں۔انہوںنے کہا کہ زیتون سے سالانہ 14ارب روپے تک آمدن ہوسکتی ہے، صوبے کے بارانی علاقوں میں 30کروڑ نئے پودے اور خوردنی زیتون کے 40 لاکھ پودے پشاور کے مختلف علاقوں میں لگائے جاسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگلی زیتون میں اعلی کوالٹی کی قلمکاری کی جائے گی او خوردنی زیتون کے منصوبے کی دیکھ بھال محکمہ ذراعت کے ذمہ ہوگا اور زیتون کی کاشت کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت زیتون کا پھل خریدے گی۔

شاہ فرمان نے مزید بتایا کہ محکمہ ذراعت کے اہلکار زمین کے معائنہ کے بعد زیتون کی قسم تجویز کریںگے ، خوردنی زیتون منصوبہ کی کامیابی سے بیروزگار اور غربت کا خاتمہ ہوگا، گورنر ہاوس میں تجرباتی بنیادپر لگائے گئے پانچ درختوں نے پہلے ہی سال 60کلو پھل دیا اور درختوں پر لگنے والے زیتون کا اچار بنایاگیا۔ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے آفیسر عمران آفریدی نے کہاہے کہ باجوڑ میں جنگلی زیتون کی پیوندکاری کااعداد وشمار 80فیصد سے لیکر 90فیصد تک ہے ۔ڈیپارٹمنٹ کے پاس باجوڑ میں زیتون سے تیل نکالنے کیلئے یونٹ بھی موجود ہے جہاں سے یہاں کے زمیندار فائدہ اٹھاسکتے ہیں،قبائلی اضلاع میں جنگلی زیتون کے 3کروڑ 60لاکھ درخت جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر زیتون کے 7کروڑ درخت موجود ہیں۔ جب کہ باقاعدہ کاشت سے زیتون سے سالانہ 14ارب روپے تک آمدن ہوسکتی ہے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=260808

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں