اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2018-19ءکے اعداد و شمار کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لئے مالیاتی بل 2018ءکی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 1890 ارب روپے ہے‘ اس حوالے سے اپوزیشن کے بیان کردہ اعداد و شمار درست نہیں‘ بجٹ میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے …
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2018-19ءکے مالیاتی بل 2018ءکی منظوری دے دی وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2018-19ءکے اعداد و شمار کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لئے مالیاتی بل 2018ءکی منظوری دے دی ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارہ 1890 ارب روپے ہے‘ اس حوالے سے اپوزیشن کے بیان کردہ اعداد و شمار درست نہیں‘ بجٹ میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لئے 118 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے‘ ارکان پارلیمنٹ کی پنشن کے معاملے پر قانون سازی آئندہ اسمبلی پر چھوڑ دی جائے‘ پٹرولیم لیوی کی 30 فیصد حتمی حد مقرر کردی گئی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایاز صادق نے مالیاتی بل 2018ءکی بقیہ شقوں کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا۔ بل کی بعض شقوں میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اپوزیشن ارکان نے ترامیم پیش کیں۔۔ قبل ازیں جمعرات کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تحریک پیش کی کہ مالیاتی بل 2018ءکو فی الفور زیر غور لایا جائے جس کی اپوزیشن ارکان کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اپر کیپ بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔








