قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی تحریک کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی تحریک کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی تحریک کی منظوری دیدی۔ اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالہ سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر انہوں نے تحریک ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ قبل ازیں بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، عدلیہ اور مسلح افواج پر بات ہو گی تو اس کی آن ائیر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سپیکر نے کہا کہ رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے، مجھے ایک ذمہ داری دی گئی ہے، میں نے ہائوس اور ایم این ایز کے وقار اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، اقبال آفریدی صاحب کو بھی درخواست کریں کہ وہ پاسز کے بغیرکسی کو نہیں لائیں گے اور وہ عملہ اور ایم این یز کے ساتھ بدتمیزی نہیں کریں گے، وہ کورم پوائنٹ آئوٹ ضرورکریں مگریہ نہیں ہوگا کہ جب تک وہ کھڑے ہوں کسی اور کو فلور نہیں دیا جائیگا۔ سپیکر نے کہا کہ ایم این ایز سے بھی درخواست ہے کہ وہ پاس کے بغیر مہمانوں کو نہ لائیں۔ سپیکرنے کہاکہ لابیز ممبران کیلئے ہوتے ہیں وہاں غیر متعلقہ لوگوں کو نہیں لانا چاہئے، جب ووٹنگ ہوتی ہے تولابیز اس عمل کا حصہ ہوتی ہے۔ سپیکرنے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر ضابطہ اخلاق کا جائزہ لینا چاہئے۔ بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو نہیں جا رہی ہیں، ڈیلے ٹرانسمیشن کریں مگرہماری بات جانی چاہئے، ہمارے پارلیمٹنرین کی رکنیت معطل ہوگئی ہے، ہماری درخواست ہے کہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، وہ 11جون سے معطل ہیں، یہ کسی ایم این اے کی زیادہ سے زیادہ معطلی ہے، وہ اپنے علاقہ کی بات کرتے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ ان کی رکنیت کی معطلی ختم کی جائے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پہلے ایم این ایز مہمانوں کیلئے کارڈز جاری کرواتے تھے، یہ روایت ختم ہونی چاہئے، ہمارے ایم این ایز یہاں کھڑے ہوکرگیلریز میں بات کرتے ہیں یہ قواعد کے خلاف ہیں، ممبران کو بتایا جائے کہ ایسی چیزیں ایوان کے وقار کے خلاف ہیں۔ ہائوس کے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہئے۔ ڈسپلن کو برقرار رکھنا چاہئے، مہمان ویڈیوز بناتے ہیں، اس پوری عمارت کے تقدس کو بھی برقرار رکھنا چاہئے، اس کو مچھلی منڈی نہیں بنانا چاہئے، قواعد وضوابط کو ہر صورت میں برقرار رکھنا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ لابیز ایوان کا حصہ ہے، ان کے دروازے ایم این ایز کے علاوہ لوگوں کیلئے بند ہونے چاہئیں۔ سپیکرنے کہاکہ انہوں نے کل سارجنٹ کو لکھا ہے کہ غیر متعلقہ لوگوں کو لابیز میں جانے نہ دیا جائے ورنہ انہیں معطل کر دیا جائیگا۔ پارلیمانی امورکے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ پارلیمان میں داخلہ کیلئے تین لین ہیں، اس میں سے صرف ایک لین ایم این ایز کیلئے رکھنی چاہئے۔ سپیکرنے کہاکہ ایک لین ایم این ایز کیلئے ہے۔وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاکہ ہائوس کے وقار میں ہم سب کا وقار ہے، اگر بحث میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے کنڈکٹ کو زیر بحث لایا جائے تو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ ان سمیت 4 ایم این ایز کے خلاف توہین عدالت کی کارووائی ہوئی تھی، بعض جگہ پر استثنی ہے مگریہ سلسلہ بندہونا چاہئے۔ اگر نیا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہتے ہیں تو اس پر سب کو مل بیٹھنا چاہئے، حاضرسروس ججز کوایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ لاجز کوویگوڈالوں سے بچایا جائے اور لاجز میں ان کے داخلے پر پابندی لگائی جائے ، وزرا کوبتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پرجھنڈا نہیں لگانا چاہئے۔ علی محمدخان نے کہاکہ جو مہمان آتے ہیں ان کیلئے مناسب انتظامات ہونے چاہئیں۔