قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای ہی اے) کی جانب سے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کے تحت ایجنسی کے قانونی مینڈیٹ، ادارہ جاتی استعداد اور نفاذ سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای ہی اے) کی جانب سے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کے تحت ایجنسی کے قانونی مینڈیٹ، ادارہ جاتی استعداد اور نفاذ سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نےاسلام آباد میں گاڑیوں کے اخراج کی باقاعدہ جانچ کا طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کا جائزہ لینے اور اپ ڈیٹ کرنے کی سفارش کی۔ پاک- ای پی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سالانہ قومی ماحولیاتی رپورٹ آخری مرتبہ 2016 میں شائع ہوئی تھی۔ ایجنسی نے بتایا کہ پائیدار ترقی پالیسی ادارہ (ایس ڈی پی آئی) کے تعاون سے گزشتہ پانچ سالوں کا احاطہ کرنے والی رپورٹ کی تیاری جاری ہے اور اس سلسلے میں ایک سال سے مشاورتی اجلاس جاری ہیں، رپورٹ 15 دسمبر 2026 تک شائع کر دی جائے گی۔

پاک ای پی اے نے بریفنگ میں بتایا کہ وہ فضائی نگرانی کے نظام کے قیام کے لیےکام کر رہی ہے۔ چیئرپرسن نےکہا کہ ایجنسی کو صرف نگرانی کے بجائے روک تھام پر بھی توجہ دینی چاہیےجس پر ایجنسی نے بتایا کہ وہ ٹرانسپورٹ سے متعلق آلودگی پر قابو پانے کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں الیکٹرک بس سسٹم متعارف کرانے کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ کمیٹی نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ایجنسی اور وزارت کے اندر کار پولنگ کی حوصلہ افزائی کی سفارش بھی کی۔ ڈیزل انجن والے کمرشل ٹرانسپورٹ کی نگرانی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 50 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا اور 11 کو جرمانہ کیا گیا۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ گاڑیوں کی اچانک چیکنگ کے بجائے باقاعدگی سے معائنہ کیا جانا چاہیے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں موٹر گاڑیوں کےاخراج کی باقاعدہ جانچ کا طریقہ کار وضع کرنے کی سفارش کی۔ قومی ماحولیاتی معیار کےحوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایجنسی 2010 کے قواعد پر عمل کرتی ہے اور یہ خطے کےممالک کے معیارات سےمطابقت رکھتے ہیں۔ اسی طرح کمیٹی نے پانی کی جانچ، معیارات اورلیبارٹریوں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی جبکہ ماحولیاتی لیبارٹریوں کے دورے کی تجویز بھی دی گئی۔ نفاذ سے متعلق کمیٹی کو بتایا گیا کہ جرمانے ایجنسی اور ٹربیونل دونوں کی جانب سے عائد کیے جاتے ہیں،صنعتی نگرانی کے لیے سرویلنس اور مانیٹرنگ سسٹم موجود ہے جبکہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور ابتدائی ماحولیاتی جانچ کی ضروریات کے ذریعےگردوغبار کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ایجنسی نے بتایا کہ اسے فنڈز اور عملے کی کمی کا سامنا ہے اور وہ ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ ایجنسی اور وزارت کےڈیپوٹیشن پر موجود ملازمین کی تفصیلات اور ہر ایک کی تعیناتی کی وجوہات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی نے وزارت کی سوشل میڈیا پر نہایت محدود متحرک مہم اور اسے بہتر بنانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کا جائزہ لے کر اسے اپ ڈیٹ کرنے، بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے ایکٹ کے شیڈول کو اپ ڈیٹ کرنے اور پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے ارکان کو آئندہ اجلاس کے مدعو کیا جائے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے دیگرمحفوظ علاقوں کے تحفظ اور انتظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بورڈ کے چیئرمین کی عدم شرکت کے باعث مؤخر کر دی گئی۔ اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی میر خان محمد جمالی، شائستہ پرویز، سیدہ شہلا رضا، مسرت رفیق مہیسر، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، رانا انصار، تمکین اختر نیازی، شاہدہ رحمانی، طاہرہ اورنگزیب اور محمد عثمان بادینی، کے علاوہ سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور وزارت و پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں