قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا ملک میں انٹرنیٹ کی ناقص صورتحال پر اظہار تشویش، پی ٹی اے سے جرمانوں اور ریکوری کی تفصیلات طلب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی ناقص اور غیر تسلی بخش کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں کو جاری کردہ شوکاز نوٹسز، عائد جرمانوں اور اب تک وصول کی گئی یا واجب الادا رقوم کی مکمل تفصیلات طلب کر لی …

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی ناقص اور غیر تسلی بخش کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں کو جاری کردہ شوکاز نوٹسز، عائد جرمانوں اور اب تک وصول کی گئی یا واجب الادا رقوم کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

قائمہ کمیٹی کا 24واں اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، احمد عتیق انور، رانا ارادت شریف خان، عمار احمد خان لغاری، شازیہ فرید، سید علی قاسم گیلانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی اور پلین بلوچ سمیت وزارت و ذیلی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پی ٹی اے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سروسز کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدگی سے سروے کیے جاتے ہیں اور نتائج کی روشنی میں کمپنیوں کو 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ معیار بہتر نہ ہونے پر شوکاز نوٹس اور 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے تاہم ٹیلی کام آپریٹرز جرمانے کی ادائیگی کے بجائے عدالتوں سے رجوع کر لیتے ہیں جس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کے باعث اصلاحی اقدامات متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کو بھی بلایا جائے تاکہ وہ انفراسٹرکچر کی بہتری اور سروسز کے معیار سے متعلق کیے جانے والے عملی اقدامات پر بریفنگ دیں۔اجلاس میں ممبر ٹیلی کام نے آگاہ کیا کہ فنانس ایکٹ 2021 کے تحت ٹیلی کام سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دیا جا چکا ہے، لیکن نیپرا نے ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے جواز پر اسے صنعت تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

کمیٹی نے اس پر ممبر ٹیلی کام کو جامع ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں نیپرا کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ صنعتی درجہ ملنے سے ٹاورز کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور لوڈشیڈنگ سے انٹرنیٹ و موبائل سگنلز کی بندش کا مسئلہ حل ہوگا۔علاوہ ازیں کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب سے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی سے تاحال مشاورت نہ ہونے کے تحفظات پر وزارت خزانہ کو مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک کے لیے موخر کر دیا گیا۔

 

مزید خبریں