اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی اقدار کے فروغ، شہری شعور کی بہتری اور قومی ترقی کے لئے پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اور مؤثر روابط پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات پارلیمنٹ ہاؤس میں تدریس، تحقیق اور تحریر کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو پارلیمانی سٹڈیز پروگرام کے 10 سال مکمل ہونے …
قومی ترقی کیلئے پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت ہے ، سپیکر قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی اقدار کے فروغ، شہری شعور کی بہتری اور قومی ترقی کے لئے پارلیمنٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اور مؤثر روابط پر زور دیا ہے۔انہوں نے ان خیالات پارلیمنٹ ہاؤس میں تدریس، تحقیق اور تحریر کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو پارلیمانی سٹڈیز پروگرام کے 10 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ پروگرام 2015 میں ان کی زیرِ صدارت شروع کیا گیا تھا جس میں ملک کی 25 جامعات نے اپنے نصاب میں پارلیمانی سٹڈیز شامل کرنے کا عزم کیا تھا۔ انہوں نے وائس چانسلرز، ریکٹرز، پرنسپلز اور سینئر فیکلٹی ممبران کی کانفرنس میں بھرپور شرکت اور طلبہ میں پارلیمانی شعور اجاگر کرنے کے لئے ان کے تعاون کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قومی اسمبلی میں کارروائی کے قواعدِ و ضوابط صرف سرسری مطالعہ سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے عملی مشاہدہ اور تجربہ ضروری ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس وقت ملک کی 17 جامعات میں آئین، پارلیمانی امور اور متعلقہ موضوعات پر تدریس جاری ہے اور ملکی جامعات کے اساتذہ و محققین مقامی سطح پر پارلیمانی عمل پر تحقیق کر رہے ہیں۔انہوں نے 2013 میں شروع کئے گئے قومی اسمبلی انٹرن شپ پروگرام کو ایک کامیاب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے ہزاروں طلبہ خصوصاً پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو قانون سازی کے عمل سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر انٹرنز پارلیمان کے کام کی وسعت اور پیچیدگی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور وہ پارلیمنٹ و جمہوریت کے سفیر بن کر واپس جاتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لئے کی گئی ادارہ جاتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو محققین، طلبہ اور شہریوں کے لئے سیمینارز، تحقیقی تعاون اور تدریسی پروگرامز کے ذریعے کھول دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپیکر کے تقریوں اور ترقیوں سے متعلق اختیارات میں کمی کی گئی ہے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سٹاف کی سنیارٹی لسٹس ویب سائٹ پر عوامی سطح پر دستیاب کی گئی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے ماحول دوست اقدامات کرتے ہوئے 2016 میں دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل شدہ "گرین پارلیمنٹ” ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کیا جن میں انٹرن شپ پروگرام کو تمام صوبائی اسمبلیوں تک توسیع دینا، قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کے روابط کو فروغ دینا، پارلیمانی جریدے کا اجرا اور ڈیجیٹل آرکائیوز کا قیام، تحقیقی مقالوں اور تھیسز کے لئے ایوارڈز کا آغاز، ماہر پارلیمنٹرینز کو جامعات کی سنڈیکیٹس اور بورڈز میں شامل کرنا، تحقیقی ڈیٹا بینک کا قیام جو تعلیمی و پالیسی سازی کے اداروں کے لیے قابل رسائی ہو، اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر پروگرام کی YPF کے تعاون سے بحالی شامل ہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں پارلیمنٹ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تعاون کے ذریعے جامعات میں پارلیمانی سٹڈیز پروگرامز کے مؤثر نفاذ کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے جامعات سے تحریری تجاویز بھی طلب کیں جن پر دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے فالو اپ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ سپیکر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں، گلگت بلتستان اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکرز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ مشاہدہ اور تجربہ ضروری ہے۔
سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس وقت ملک کی 17 جامعات میں آئین، پارلیمانی امور اور متعلقہ موضوعات پر تدریس جاری ہے اور ملکی جامعات کے اساتذہ و محققین مقامی سطح پر پارلیمانی عمل پر تحقیق کر رہے ہیں۔انہوں نے 2013 میں شروع کئے گئے قومی اسمبلی انٹرن شپ پروگرام کو ایک کامیاب اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے ہزاروں طلبہ خصوصاً پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو قانون سازی کے عمل سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر انٹرنز پارلیمان کے کام کی وسعت اور پیچیدگی دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور وہ پارلیمنٹ و جمہوریت کے سفیر بن کر واپس جاتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں شفافیت اور میرٹ کے فروغ کے لئے کی گئی ادارہ جاتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو محققین، طلبہ اور شہریوں کے لئے سیمینارز، تحقیقی تعاون اور تدریسی پروگرامز کے ذریعے کھول دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپیکر کے تقریوں اور ترقیوں سے متعلق اختیارات میں کمی کی گئی ہے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ سٹاف کی سنیارٹی لسٹس ویب سائٹ پر عوامی سطح پر دستیاب کی گئی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے ماحول دوست اقدامات کرتے ہوئے 2016 میں دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل شدہ "گرین پارلیمنٹ” ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کیا جن میں انٹرن شپ پروگرام کو تمام صوبائی اسمبلیوں تک توسیع دینا، قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کے روابط کو فروغ دینا، پارلیمانی جریدے کا اجرا اور ڈیجیٹل آرکائیوز کا قیام، تحقیقی مقالوں اور تھیسز کے لئے ایوارڈز کا آغاز، ماہر پارلیمنٹرینز کو جامعات کی سنڈیکیٹس اور بورڈز میں شامل کرنا، تحقیقی ڈیٹا بینک کا قیام جو تعلیمی و پالیسی سازی کے اداروں کے لیے قابل رسائی ہو، اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر پروگرام کی YPF کے تعاون سے بحالی شامل ہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں پارلیمنٹ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تعاون کے ذریعے جامعات میں پارلیمانی سٹڈیز پروگرامز کے مؤثر نفاذ کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے جامعات سے تحریری تجاویز بھی طلب کیں جن پر دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے فالو اپ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ سپیکر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں چاروں صوبائی اسمبلیوں، گلگت بلتستان اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکرز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔








