ڈیرہ اسماعیل خان دھماکہ:12 افراد شہید، 35 زخمی، ریسکیو اہلکار بھی فائرنگ کا نشانہ بن گیا

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امان میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں کسٹمز اہلکار سمیت 12 افراد شہید اور 35 زخمی ہوگئے جبکہ زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار بھی شہید اور دو زخمی ہوگئے

ڈیرہ اسماعیل خان۔ 26 ستمبر (اے پی پی):ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امان میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر زوردار دھماکے کے نتیجے میں کسٹمز اہلکار سمیت 12 افراد شہید اور 35 زخمی ہوگئے جبکہ زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار بھی شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ ہفتہ کو درازندہ کے علاقے میں ڈی آئی خان۔کوئٹہ روڈ پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع امان میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر دھماکے سے چیک پوسٹ اور قریبی مکان کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان غلام مبشر میکن کے مطابق شہداء میں 9 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی درازندہ سے جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد عارف خان کی ہدایت پر ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید ایمبولینسیں اور ریسکیو اہلکار بھی روانہ کیے گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائی میں 8 ایمبولینسوں، 25 ریسکیو اہلکاروں اور ریسکیو و ریکوری گاڑی نے حصہ لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں قریبی طبی مراکز منتقل کیا جبکہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی لاشیں بھی جائے وقوعہ سے نکال کر ہسپتال منتقل کی گئیں۔ آر پی او غلام مبشر میکن کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور ہسپتال منتقل کرنے کا عمل جاری رہا جبکہ 35 زخمیوں میں سے 25 کو مزید علاج کے لیے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان ریفر کیا گیا۔ دھماکے سے تباہ ہونے والے مکان میں رہائش پذیر ایک ہی خاندان کے متعدد افراد بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ جاں بحق افراد میں گل میدانہ بی بی، مقبو بی بی اور گل ورینہ بی بی شامل ہیں، جبکہ جلال خان اور ان کے بھائی نجیب اللہ زخمی ہوئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ ضیاء الدین احمد اور ایس پی صدر بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی و انخلا کی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ دریں اثنا زخمیوں کو منتقل کرنے کے دوران درازندہ کے علاقے میں ریسکیو 1122 کی ایمبولینس فائرنگ کی زد میں آگئی، جس کے نتیجے میں ریسکیو اہلکار شریف اللہ شہید جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی ریسکیو اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے درازندہ دھماکے اور ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین کو منتقل کرنے والے امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے شہید ریسکیو اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں ریسکیو 1122 نے دھماکے کی جگہ پر سرچ، ریکوری اور امدادی کارروائیاں مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا عمل مکمل کیا۔ واقعے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام طبی مراکز کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سید محمد مسید نے اپنے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے تمام سرجنز کو ہنگامی صورتحال کے لیے چوکس اور دستیاب رہنے کی ہدایت کی جبکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو بھی 24 گھنٹے الرٹ رہنے اور سرکاری رابطہ نمبرز فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ جمیل کے مطابق دھماکے کے بعد 7 زخمیوں کو ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی سینٹر منتقل کیا گیا، جن میں سے 3 مریضوں کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر عملہ زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہے جبکہ ادویات اور خون کی وافر مقدار بھی دستیاب ہے۔ ریجنل بلڈ سینٹر نے زخمیوں کے علاج کے لیے مفت خون کے سرخ خلیات، فریش فروزن پلازما اور دیگر خون کے اجزا مفت فراہم کیے جبکہ ایک تکنیکی ٹیم بھی ہسپتال روانہ کی گئی۔ ریجنل بلڈ سینٹر کے منیجر ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں خون عطیہ کریں تاکہ زخمیوں کی جانیں بچانے میں مدد مل سکے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں علاقے میں سرچ، سکیورٹی، امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔