لاہور۔31اگست (اے پی پی):واروِکشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب (WCCC) اور لاہور قلندرز نے ایک انقلابی عالمی شراکت داری کا اعلان کیا ہےجو برمنگھم، واروِکشائر اور لاہور میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اشتراک اس سال خزاں میں باضابطہ طور پر شروع ہوگا اور دونوں کلب طویل المدتی منصوبے کے تحت دنیا بھر میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔
اس معاہدے میں ٹیلنٹ اور پرفارمنس ڈویلپمنٹ پروگرامز، کھلاڑیوں اور کوچز کے تبادلے، مشترکہ اکیڈمیاں، اسکاؤٹنگ نیٹ ورکس، گراس روٹس کرکٹ کے فروغ، کمیونٹی منصوبے اور 2026 اور اس کے بعد کے لیے تجارتی مواقع شامل ہیں۔یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا ہے جب جولائی 2025 میں واروِکشائر نے اپنے پارٹنر نائٹ ہیڈ ایل ایل پی کے ساتھ برمنگھم فینکس کے حصول کا سنگِ میل عبور کیا، جس سے کلب کی عالمی سطح پر وسعت اور اثرورسوخ بڑھانے کی خواہش مزید واضح ہوئی۔
واروِکشائر کے فنانس ڈائریکٹر ابراہیم خان نے کہا کہ لاہور قلندرز کے ساتھ تعاون صرف اعلیٰ سطحی کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ کھیل کے مستقبل کو تشکیل دینے والے مواقع پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔ ہم مل کر نوجوان ٹیلنٹ کے لیے راستے کھولیں گے، گراس روٹس کرکٹ کو وسعت دیں گے، کمیونٹی منصوبے شروع کریں گے اور تمام سطحوں پر کھیل کو مضبوط بنانے کے لیے وسائل یکجا کریں گے۔ یہ دونوں کلبوں کے لیے ایک تاریخی نیا باب ہے۔
لاہور قلندرز کے مالک اور سی او او، ثمین رانا نے اس معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہماری سوچ ہمیشہ سرحدوں سے آگے کی رہی ہے اور یہ شراکت داری اسی وژن کی عکاسی ہے۔ واروِکشائر کے ساتھ مل کر ہم ٹیلنٹ کو پروان چڑھائیں گے، لاہور اور برمنگھم کی کمیونٹیز کو متاثر کریں گے اور ایسا پائیدار ماڈل تشکیل دیں گے جو دونوں کلبوں کو میدان کے اندر اور باہر مضبوط کرے گا اور سب سے بڑھ کر کھیل کے مستقبل کے لیے ایک پائیدار وراثت چھوڑے گا۔
یہ معاہدہ برٹش پاکستان انیشی ایٹو (BPI) کے تحت اس وقت ممکن ہوا جب مارچ 2025 میں سی وی ایس کے فنانس ڈائریکٹر راف صابر کی قیادت میں ایک کامیاب اکیڈمی ٹور لاہور میں منعقد ہوا۔ ایک ثقافتی اور کھیلوں کے تبادلے کے طور پر شروع ہونے والا یہ سفر اب ایک جامع عالمی اتحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے جو براعظموں کے درمیان کرکٹ کے منظرنامے کو نئی جہت دینے کا وعدہ کرتا ہے۔