لاہور۔8اگست (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے شہری عبد الرحمن کی درخواست پر6 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب کوئی ملزم کسی مقدمے سے بری ہو جاتا ہے تو قانونی طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے،عدالت نے قرار دیا کہ بریت کے باوجود سرکاری دستاویزات میں اس ایف آئی آر کا ذکر غیر ضروری،انسانی وقار کے خلاف اور عدالتی پراسیس سے بری ہونے والے شہریوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہوم سیکرٹری درخواست گزار کو موجودہ قانونی اسٹیٹس کے مطابق پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کریں،جس میں ان مقدمات کا ذکر نہ ہو جن سے درخواست گزار بری ہو چکا ہے۔درخواست گزار عبد الرحمن پر2024 میں لاہور کے تھانہ نواں کوٹ میں پتنگ بازی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا،جس سے وہ بعد ازاں بری ہو چکا ہے،درخواست گزار نے بیرون ملک سفر کیلئے کلیئر کریکٹر سرٹیفیکیٹ کیلئے درخواست دی لیکن اس میں کریمنل ہسٹری ظاہر کی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ہوم سیکرٹری نے پولیس رولز کے تحت ایف آئی آر کا ریکارڈ60 برس تک محفوظ رکھنے کا موقف اختیار کیا اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ کو قانونی قرار دیا، عدالت نے ہدایت کی کہ یہ ریکارڈ صرف انتظامی ادارے کی اندرونی ضروریات تک محدود رہے اور کسی بری شدہ فرد کے خلاف استعمال نہ ہو۔